اٹھارویں ترمیم کی خلاف ورزی بند نہ ہوئی تو اسلام آباد کی جانب مارچ کرینگے،بلاول

84

لاڑکانہ (نمائندہ جسارت) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول زرداری نے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم کی خلاف ورزی بند نہ ہوئی تو اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے‘وفاقی حکومت 3 اسپتالوں کا کنٹرول سنبھالنے سے متعلق نوٹیفکیشن واپس لے‘ وفاقی وزیر سندھ کو ایڈزستان کہہ کر گالی دیتا ہے‘ سندھ کو حصے کا پانی نہیں مل رہا‘ 29 مئی کو نیب کے سامنے پیش ہوںگا‘ سابق چیف جسٹس آف پاکستان نے مجھے بے گناہ قرار دیا۔ بلاول زرداری نے شیخ زید چانڈکا چلڈرین اسپتال لاڑکانہ میں چلڈرن ایمرجنسی روم کے افتتاح کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر صحت عذرا پیچوہو کے ہمراہ پریس کانفرنس کی جس میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم کسی سے بھیک نہیں مانگ رہے‘ اپنا حق مانگ رہے ہیں‘ این ایف سی میں حصہ نہیں دیا جارہا‘ سندھ گیس پیدا کرتا ہے اور اس کی ہی گیس بند کی جا رہی ہے‘ 1991ء معاہدے کے تحت پانی کا حصہ بھی نہیں مل رہا‘ وفاق معاشی طور پر سندھ کو کمزور کر رہا ہے‘ وفاقی حکومت کو خبردار کرتا ہوں کے 3 اسپتالوں کا کنٹرول سنبھالنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے ورنہ سندھ کے عوام کے ساتھ اسلام آبادکی طرف مارچ کریںگے اور اپنا حق لے کر رہیں گے‘ ون یونٹ نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو مزاحمت کریںگے‘ فیصلے اسلام آباد میں بیٹھا کٹ پتلی کر رہا ہے جو کے کسی صورت قبول نہیں ‘ وفاقی حکومت جان بوجھ کر ایڈز کا اشو اٹھا کر سندھ کے عوام کے خلاف سازش کر رہی ہے‘ پنجاب میں سب سے زیادہ ایڈز کے مریض ہیں‘ پنجاب کا ذکر کیوں نہیں کیا جاتا۔ بلاول نے کہا کہ نیب شروع سے متنازع ہے‘ آمر کا نے بنایا تھا‘ مجھے 29 مئی کو نیب نے طلب کیا ہے اوراس روز نیب کے سامنے پیش ہوںگا ‘ سابق چیف جسٹس نے کہا تھا کہ بلاول زرداری بے گناہ ہے ۔ بلاول زرداری کا کہنا ہے کہ ہم نے این آئی سی وی ڈی کو عالمی معیار کا اسپتال بنا دیا‘ خیبر پختونخوا میں ایک بھی نیا اسپتال نہیں بنایا گیا‘ عمران خان نے پشاور میں واحد کارڈیو اسپتال اپنے رشتے دار کے حوالے کرکے تباہ کردیا‘ پہلے یہی لوگ ہم پر انتظامی امور اور اسپتال تک نہ چلانے کا طنز کرتے تھے‘ اب وہ سندھ حکومت سے جے پی ایم سی چھیننا چاہتے ہیں۔