حکومت 2 سال سے زیادہ چلتی نظر نہیں آرہی ،نئے انتخابات کرانا ہونگے،شاہد خاقان

91

اسلام آباد (صباح نیوز+ مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ حکومت 2 سال سے زیادہ چلتی نظر نہیں آرہی‘انتخابات کرانا ہونگے،عوام حکومت کو برداشت نہیں کرپارہے، مسائل کے حل کیلیے قومی ڈائیلاگ ناگزیر ہیں،عمران کی طرح تباہ کرنا ہوتو ملک چلانا واقعی آسان ہے۔نیب معاملے کا کھرا وزیر اعظم ہاؤس تک جاتا ہے، چیئرمین نیب نے دباؤ، بلیک میلنگ سے اپوزیشن کو شکار بنایا۔ نجی ٹی وی سے انٹرویو میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ لوگ سڑکوں پر آجائیں تو آمریت کے خدشات پیدا ہوتے ہیں،ملکی مسائل کے حل کے لیے قومی ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، ان کا کہنا تھا کہ نیب معاملے کا کھرا وزیر اعظم ہاؤس تک جاتا ہے، چیئرمین نیب نے دباؤ، بلیک میلنگ اور اپنی پالیسی سے اپوزیشن کو شکار بنانے رکھا، نیب نے ہمیشہ معیشت اور جمہوریت کو نقصان پہنچایا، میں نے ضمانت نہیں کرائی جس نے گرفتار کرنا ہے کرلے۔ ان کا کہنا تھا کہ عیدالفطر کے بعد مولانا فضل الرحمن اپوزیشن جماعتوں کی کل جماعتی کانفرنس بلائیں گے جواپوزیشن کا مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کی کوشش کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مرحلہ پر آکر سب جماعتوں کے مؤقف اپوزیشن کی مشترکہ حکمت عملی اور تحریک کے تابع ہو جائیں گے جس کا واحد ہدف پاکستان کے عوام کے مسائل کا حل ہے، حصول اقتدار نہیں ہے تاہم اگر حکومت گرانے کی ضرورت محسوس ہوئی تو حکومت بھی گرائی جائے گی۔سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جس ٹی وی چینل نے چیئرمین نیب کے حوالے سے ویڈیو جاری کی اس کے مالک وزیر اعظم کے مشیر سمجھے جاتے ہیں اور وہ وزیر اعظم ہائوس میں بیٹھتے ہیں ، اجلاسوں میں شریک ہوتے ہیں ، پی ٹی آئی سپورٹر بھی ہیں ، ان کی میڈیا مہم بھی چلاتے رہے اور وزیر اعظم کے دوست بھی ہیں اس حوالے سے اب یہ معاملہ زیادہ سنجیدہ ہو گیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ناکام ہو چکی ہے، حکومت چل نہیں رہی، بوجھ عوام پر ہے، مہنگائی ہے ، بیروزگاری ہے، تکلیف ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ میری نیک خواہشات کے باوجود حکومت آئندہ 2 سال نہیں چل سکتی کیونکہ لوگ اس کے متحمل نہیں ہو سکتے، ملک میں نئے الیکشن کروانے پڑیں گے مجھے اس کے سوا کوئی اور حل نظر نہیں آتا، یہ میری ذاتی رائے ہے پارٹی لائن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جتنا جلدی الیکشن کرائیں اتنا بہتر ہے۔ حکومت کی جو ساکھ تھی، اثر تھا یا کارکردگی دکھانے کے حوالے سے جو امیدیں تھیں وہ سب ختم ہو گئی ہیں۔ دنیا کی تاریخ میں اتنی تیزی سے کوئی حکومت نیچے نہیں گئی جتنا موجودہ حکومت گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نئے انتخابات ہوں گے تو لوگ انہیں خوش آمدید کہیں گے اور پاکستان کو نیا آغاز مل جائے گا۔