اسلامی حکومت کے قیام کی جدوجہد سنت نبویؐ ہے، اسد اللہ بھٹو

108

کراچی(اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیرو سابق اسداللہ بھٹونے کہا ہے کہ اسلامی حکومت کے قیام کے لیے جدوجہد کرنا آپ ؐ کی سب سے بڑی سنت ہے، آئی ایم ایف سے کیا گیا معاہدہ پارلیمنٹ میں زیر بحث لاکر قوم کو اصل حقائق سے آگاہ کیا جائے، مفاد پرست حکمرانوں نے سودی معیشت سے اللہ اور اس کے رسولؐ سے جنگ، آئی ایم ایف سے بے تحاشا قرض لے کر عملی طور پر ملک کو عالمی مالیاتی اداروں کے ہاں گروی رکھ کر ملکی آزادی وخود مختاری کو دائو پر لگادیا ہے جس سے نجات کا واحد ذریعہ قرآن وسنت کانظام یعنی اسلامی حکومت کا قیام ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی کے تحت احسن آباد پارک گلشن معمار میں عوامی دعوت افطار سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر ممتاز عالم دین مولاناشفیع چترالی، امین اشعر نے بھی خطاب کیا۔ اسداللہ بھٹو نے مزید کہا کہ مال ودولت مقصد زندگی ہرگز نہیں بلکہ ضرورت زندگی ہونا چاہیے کیونکہ یہ سب کچھ دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں ہے ، ایک مومن اور آخرت پر یقین رکھنے والا بندہ ہمیشہ دنیا کے زیب وزینت پر آخرت کی کامیابی والی زندگی کو ترجیح دیتا ہے، جس نے ایمان واحتساب کے ساتھ روزہ رکھا وہ کامیاب ہوگیا۔27رمضان المبارک کو قیام پاکستان بھی اللہ کا انعام ہے، اللہ کی اس نعمت کا قوم کو شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ ناشکری کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ اپنی نعمتیں چھین لیتا ہے۔دریں اثنا کورنگی میں افطار پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے اسد اللہ بھٹو نے کہا کہ رمضان کی ساعتوں رحمتوں اور برکتوں کو زیادہ سے زیادہ سمیٹا جائے ۔رمضان نزول قرآن کا مہینہ ہے ۔رمضان میں فتح مکہ ،قیام پاکستان اور محمد بن قاسم کے ہاتھوں سندھ کو راجہ داہر سے آزای حاصل ہوئی ۔ آج بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ وقت کے راجہ داہروں کے خلاف کلمہ حق بلند کیا جائے۔ اور اسلام کی شمع کو روشن کیا جائے۔اسد اللہ بھٹو نے کہا کہ پاکستان کے حکمراں مسلمان ضرورہیں لیکن اسلام کے نفاذ سے ان کا کوئی واسطہ نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اللہ کی زمین پر اللہ کے دین کو نافذ کرنا ہے اور یہ دین اس وقت نافذ ہوگا جب ہم سب اقامت دین کا کا م کریںگے ۔رمضان کا مہینہ یادہانی اور رب سے وفاداری کا مہینہ ہے ۔ہمیں اس مہینے میں قرآن سے تعلق کو مضبوط بنانا ہوگا اور زندگی کے ہر شعبے میں دین کو عملی طور پر نافذ کرنا ہوگا ۔