قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ

143

اور بعید نہ تھا کہ اگر ہم تمہیں مضبوط نہ رکھتے تو تم ان کی طرف کچھ نہ کچھ جھک جاتے ۔ لیکن اگر تم ایسا کرتے تو ہم تمہیں دنیا میں بھی دوہرے عذاب کا مزہ چکھاتے اور آخرت میں بھی دوہرے عذاب کا، پھر ہمارے مقابلے میں تم کوئی مددگار نہ پاتے ۔ اور یہ لوگ اس بات پر بھی تلے رہے ہیں کہ تمہارے قدم اِس سر زمین سے اکھاڑ دیں اور تمہیں یہاں سے نکال باہر کریں لیکن اگر یہ ایسا کریں گے تو تمہارے بعد یہ خود یہاں کچھ زیادہ دیر نہ ٹھیر سکیں گے ۔ یہ ہمارا مستقل طریق کار ہے جو اْن سب رسولوں کے معاملے میں ہم نے برتا ہے جہیں تم سے پہلے ہم نے بھیجا تھا، اور ہمارے طریق کار میں تم کوئی تغیر نہ پاؤ گے ۔ نماز قائم کرو زوال آفتاب سے لے کر اندھیرے تک اور فجر کے قرآن کا بھی التزام کرو کیونکہ قرآن فجر مشہود ہوتا ہے ۔ (سورۃ بنی اسرائیل: 74تا 78)
آپؐ نے فرمایا: رمضان ایسا مہینہ ہے جس کا پہلا عشرہ رحمت، درمیانی عشرہ مغفرت اور آخری عشرہ جہنم سے آزادی کا ہے، جو شخص اس مہینہ میں اپنے غلام (ملازم وغیرہ) کے بوجھ کو ہلکا کردے تو اللہ جل شانہ اس کی مغفرت فرماتے ہیں اور آگ سے آزادی دیتے ہیں، اے لوگو! اس مہینہ میں چار چیزوں کی کثرت رکھا کرو: ۱: کلمہ طیبہ لا الٰہ الا اللہ، ۲: استغفار، ۳: جنت کی طلب، ۴: آگ سے پناہ‘‘۔ (مشکوٰۃ، بیہقی)
سیدہ عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ: ’’جب رمضان المبارک کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو آپ ؐ راتوں کو عبادت میں مشغول رہتے، اپنے گھر والوں کو جگاتے تھے، اور کمر کس لیتے تھے‘‘۔ (مشکوٰۃ، مسلم) الغرض نبی کریمؐ رمضان المبارک میں خود بھی عبادت کا خوب اہتمام فرماتے، اسی طرح صحابہ کرامؓ اپنے گھر والوں کو بھی اس کی طرف متوجہ فرماتے اور اپنی امت کو بھی اس کی تلقین فرمائی ہے۔