نئے پاکستان میں سب کچھ پرانا

109

مولوی صاحب دوپہر کے کھانے کے وقت گھر پہنچے تو گھر مرغے کے سالن کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔ کھانا سامنے آیا تو حیران ہوئے کہ پلیٹ میں مرغے کے گوشت کا سالن پڑا تھا۔ بیگم سے پوچھا آج یہ مرغے کا سالن کیسے؟، ہمارے گھر تو کوئی شاگرد دال بھی لاکر نہیں دیتا۔ ماجرا کیا ہے؟۔ بیگم نے کہا کہ یہ مرغا نجانے کہاں سے اڑکر ہمارے گھر میں آن کودا تھا۔ میرے قابو میں آیا تو پہلے بہت انتظار کیا کہ شاید کوئی اس کی تلاش میں گھر تک آئے۔ جب کوئی نہ آیا تو میں نے اسے ذبح کیا اور آپ کے لیے پکا لیا۔ نہ جانے کتنی مدت بعد گوشت کھا رہے ہیں اور وہ بھی دیسی مرغے کا۔ مولوی صاحب یہ سن کر بہت پریشان ہو گئے کہنے لگے، اللہ کی بندی ایسا کرنا تو حرام ہے، یہ تو نے کیا کیا۔ بیگم نے پلیٹ اٹھائی اور واپس دیگچی میں ڈال دی۔ کہنے لگیں تھوڑا انتظار کر لیں، گھر میں دال پڑی ہے میں وہ ہی پکائے دیتی ہوں۔ ایک تو مرغے کے سالن کی مہک کیا کم تھی کہ اس پر بھوک اور وہ بھی قیامت کی۔ مولوی صاحب کہنے لگے، اچھا ایسا کرو مرغے کا سالن ہی پلیٹ میں نکال دو۔ اللہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔ اطاعت شعار بیگم نے پلیٹ دوبارہ پکڑی اور پلیٹ میں شوربہ الٹنے لگی۔ شوربے کے بہاؤ میں مرغے کی ایک ٹانگ بھی بہتی ہوئی پلیٹ میں آگئی تو بیگم صاحبہ نے اسے اٹھا کر جب دیگچی میں ڈالنا چاہا تو مولوی صاحب بیگم سے کہنے لگے کہ ارے ’’جھلی‘‘ (پگلی)، جو خود سے آرہی ہے اسے آنے دے۔
تازہ ترین خبروں کے مطابق وفاقی کابینہ نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی منظوری دے دی جس سے فائدہ اٹھانے کے لیے 30 جون تک کی مہلت دی گئی ہے۔ اسکیم کے تحت ملک اور بیرون ملک موجود رقوم اور جائدادیں ظاہر کرنے پر 4 فی صد رقم جمع کرانی ہوگی، رقم بہر صورت بینکوں میں جمع کرانی ہوگی، پیسا پاکستان نہ لانے پر 6 فی صد رقم قومی خزانے میں جمع ہوگی، جائداد کی مالیت ایف بی آر ویلیو سے ڈیڑھ گنا زیادہ تسلیم کی جائے گی اور اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کے لیے ٹیکس ریٹرنز دینا لازمی ہوگا۔ وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پر بریفنگ دی گئی۔ اختلاف رائے کہاں اور کس بات میں نہیں ہوتا لیکن دلچسپ بات یہ ہے وزیر اعظم کی اس اسکیم اور رائے کو کابینہ نے اتفاق رائے منظور کر لیا۔ ظاہر ہے جس میں سب کا بھلا ہو وہ بات کس کو بری لگتی ہے۔
زبان کا وزن چند تولہ ہی ہوتا ہے لیکن اس میں اتنی طاقت اور قوت ہوتی ہے کہ زمین پھاڑ سکتی ہے اور ساتوں آسمان ہلا کر رکھ سکتی ہے۔ کسی کی تعریف کرنے پر آجائے تو اس کے لیے اوجِ ثریا و برجیس بھی کم اور جس کی ہرزہ سرائی پر اتر آئے تو تحت الثریٰ کی گہرائی بھی شرمندگی محسوس کرنے لگے۔ آج جس اسکیم کی توجیہات و توصیفات میں زمین و آسمان ایک کیے جارہے ہیں کل ان میں سے ایسے ایسے کیڑے نکالے جارہے تھے کہ ان کی شکلیں دیکھتے ہی قے کے ساتھ کلیجہ بھی باہر نکل پڑتا تھا۔
موجودہ حکومت اپنی بات سے پھر جانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ دس ماہ حکومت کرنے کے دوران وہ کون سی بات ہے جس کے خلاف موجودہ حکومت نے عوام کا ذہن تیار نہ کیا ہو اور پھراسی
بات کو اپنانے پر مجبور نہیں ہو گئی ہو۔ بے شک حالات اکثر انسان کو وہی کچھ کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں جس کا وہ شدید مخالف رہا ہوتا ہے لیکن جب جب بھی وہ ایسا کرنے پر مجبور ہوتا ہے وہ دوباتیں ضرور کرتا ہے۔ ایک یہ کہ اپنے پہلے کہے کی معذرت ہر اس فرد سے ضرور کرتا ہے جس کے سامنے اس نے ایسا نہ کرنے کا دعویٰ کیا ہوا ہوتا ہے اور دوم یہ کہ وہ شرمندگی کا اظہار کرتا ہے لیکن موجودہ حکومت اور اس کو سپورٹ کرنے والے نہ تو اپنی کسی عہد شکنی پر معذرت خواہ ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی شرمندگی کا اظہار کرتے ہیں بلکہ اس کے برعکس پلٹ جانے (یوٹرن) کو دانش مندی ثابت کرنے پر کمر بستہ ہو جاتے ہیں۔ یہ وہی ’’ٹیکس ایمنسٹی اسکیمیں‘‘ ہیں جو ماضی میں بھی ایک لعنت کی صورت میں پاکستان میں چوروں، اچکوں اور ڈاکوؤں کے لیے منظور کی جاتی رہی ہیں۔ چاروں ہاتھوں پیروں سے لوٹے ہوئے کالے دھن کو سفید بناکر ڈاکوؤں کو معزز شہری بنانے کا یہ گھناؤنا قانون لائق نفرت ہی نہیں قابل تعزیر بھی ہے۔ مجھے وہ عمران خان صاحب اچھے لگتے تھے جنہوں نے یہ اعلان کیا تھا کہ ماضی میں جن جن افراد کو ایسے کسی سیاہ قانون کے تحت گورا چٹا بنایا گیا ہے میں ان سب کا سخت احتساب کروں گا اور ان کو سخت سزائیں دوںگا لیکن وہ عمران خان صاحب تو پرانے پاکستان والے تھے، نئے پاکستان کے عمران خان ’’خانِ خام‘‘ بلکہ خانِ خوامخواہ بھی ثابت نہیں ہو پارہے۔ ماضی میں جو جو کام، اقدامات، اور اسکیمیں پاکستان کی تباہی و بردادی میں شمار کی جاتی تھیں وہ سب کی سب حال میں جائز، حلال اور پاکستان کی ترقی کی ضامن بنا کر اپنائی جارہی ہیں۔
قرض حلال ہوا، ڈالر کی قدر میں اضافہ جائز ہوا، پٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ وقت کی ضرورت بنا، گیس، بجلی پانی، کھانے پینے کی اشیا، جہازوں، ٹرینوں اور بسوں کے کرایوں میں اضافہ حکمت عملی قرار پائی۔ وہ تمام پارٹیاں جو ملک کی دولت کی لوٹا لاٹی میں شریک تھیں ان کے سارے ڈاکو شامل حکومت کیے گئے، را کے ایجنٹ ’’نفیس‘‘ ہو گئے اور جن عسکری قوتوں کے بجٹ تک قابل آڈٹ اور مختصر کیے جانے کا شور تھا وہ سارا شور سمندر کے طوفان کی طرح اٹھا اور جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ اگر یہ سارے کام جو اب علی الاعلان کیے جارہے ہیں، یہ سارے یوٹرنز اگر حکمت عملیوں کی نشانیاں ہیں اور ساری مہنگائی ملک کی معیشت کی بحالی کے لیے لازمی و ضروری تھی تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہی ساری مجبوریاں دوسروں کے ساتھ بھی رہی ہوںگی۔ اگر یہ ساری مجبوریاں دوسروں کا جرم اور ظلم تھا تو وہی سب کچھ اب قانون اور رحم دلی کیسے بن گیا۔ اگر یہ سب کچھ پاکستان کے لیے جزولاینفک تھا تو پھر ’’نیا پاکستان‘‘ کہاں کھڑا ہے؟۔ یہ ہے وہ سوال جس کا جواب ہر پاکستانی عمران خاں صاحب آپ سے کر رہا ہے اور جوں جوں وقت گرزرتا گیا اور پرانے پاکستان کی ساری روایتیں پہلے سے بھی کہیں زیادہ شد و مد کے ساتھ اپنائی جاتی رہیں، انسان تو انسان، درودیوار بھی موجودہ حکومت سے یہی سوال کرتے نظر آئیں گے۔ اس سے پہلے کہ خود موجودہ حکمرانوں کا اپنا رواں رواں چیخ چیخ کر یہ سوال کرنے لگے، ضروری ہے کہ نئے پاکستان کا جو خواب عوام کی آنکھوں میں سجایا گیا تھا اس کی جانب پیش قدمی کی جائے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ پوری قوم ہی عوامی رہنماؤں پر اپنا اعتماد کھو بیٹھے اور بر زبان شاعر یہ کہنے پر مجبور ہوجائے کہ
جب توقع ہی اٹھ گئی غالب
کیا کسی سے گلہ کرے کوئی