قرآن اور معاشرہ

146

ڈاکٹر وسیم علی برکاتی
یہ بات بالکل درست اور صحیح ہے کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو چودہ سو سال سے آج تک اللہ ربّ العالمین کا ایک معجزہ ہے۔ اس قرآن کو پڑھ کر آپ اللہ ربّ العالمین کی جیسی بھی مدد مانگنا چاہیں مانگ سکتے ہیں۔ ہر طرح کا اجر و ثواب حاصل کرسکتے ہیں۔ رزق میں برکت کے لیے قرآن کی کوئی آیت موجود ہے۔ قرضدار ہو تو اس کے لیے کوئی آیت موجود ہے۔ روح قبض ہونے میں مشکل ہو یا دم آخر ہو تو قرآن کو کھولا جاتا ہے۔ پورا سال ہم قرآن کو کھول کر نہیں دیکھتے اور پھر رمضان شروع ہوتے ہی تین روزہ، پانچ روزہ، دس روزہ، پندرہ روزہ، بیس روزہ، پچیس روزہ تراویح کا اہتمام انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ لیکن کیا اللہ نے کہیں بھی نزول قرآن کے مقاصد میں ان مندرجہ بالا باتوں کا ذکر کیا ہے؟ لیکن قرآن کی پہلی آیت ہی ہمیں نزول قرآن کا مقصد بتاتی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اس دنیا میں اگر کچھ بھی ہے ہماری زندگی سے لے کر اور تمام کی تمام نعمتیں اس کے لیے تمام تعریفیں اللہ ربّ العالمین کے لیے ہیں۔ کیونکہ ساری نعمتیں اللہ کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ اور پھر فوراً ہی بتلادیا گیا ہے کہ تمہیں شتر بے مہار بنا کر نہیں پیدا کیا گیا بلکہ تمہیں صراط مستقیم پر چلنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ کیونکہ پھر تم سے یقینا حساب کتاب لیا جائے گا۔ اور اس حساب کتاب والے دن کا حاکم، بادشاہ، فرمانروا، جج، منصف، قاضی مالک عرش عظیم اللہ ربّ العالمین بذات خود ہو گا۔ پھر وہ اللہ فیصلہ کرے گا کہ اس دنیا میں کو ن صراط مستقیم پر چلا کہ ان کو ربّ العالمین اپنی نعمتوں سے نوازے گا اور جنت عطا کرے گا۔ اور کون ہیں جنہوں نے اللہ کے احکامات سے روگردانی کی اور وہ اس گروہ میں ہوگئے جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا۔ اب سورۂ بقرہ کی دوسری آیت ہی لے لیں۔ اللہ ربّ العالمین اس قرآن کو ہدایات قرار دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی بھی شک نہیں یہ پرہیز گاروں کے لیے ہدایت ہے‘‘۔
اس عظیم کتاب کو جس کا مصنف ربّ العالمین خود ہے۔ اس ربّ نے اس کتاب کو ہمارے لیے ایک ہدایت نامہ، شاہراہ ہدایت، معاشرتی علوم، کتاب قانون، کتاب عبادت اور اللہ کے رنگ میں رنگنے کے لیے ہدایات دیں ہیں۔ جب تک ہم ان ہدایات کو پڑھیں گے نہیں تو کیسے اللہ کے رنگ میں رنگیں گے۔ اللہ سورۃ الزمر 9میں فرماتا ہے۔ ’’کیا وہ جو علم رکھتے ہیں اور جو علم نہیں رکھتے برابر ہوسکتے ہیں‘‘۔
پہلی وحی ہی پڑھنے کی ہے اور جب انسان نے پڑھنے سے انکار کیا تو جبرائیل ؑ جیسے فرشتے نے انسان کو بھینچ کر جھنجھوڑا اور کہا کہ اپنے ربّ کے نام سے پڑھنا شروع کرو۔ بحیثیت مسلمان ہمارے لیے اللہ کی پہلی ہدایت یہی ہے کہ ہم میں سے ہر ایک شخص کم از کم قرآن کا علم لازم حاصل کرلے۔ علم حاصل کرنے کے بارے میں قرآن میں مرتبہ آیا ہے۔ اللہ سب سے پہلے اس قرآن میں
اپنی وحدانیت، طاقت، عظمت و اقتدار، خالق و مالک اور یوم حشر میں حساب کتاب پر کلی اختیار کا یقین دلانا چاہتا ہے۔ اللہ بتاتا ہے کہ جب تم کچھ بھی نہ تھے تو ہم نے تمہیں پیدا کیا۔ تاکہ تم ہمارے بتائے ہوئے راستے پر چلو۔ اور بتایا ہوا راستہ یہ قرآن عظیم جیسی کتاب میں درج ہے۔ اور پھر اللہ خود فرماتا ہے کہ ’’اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کردیا ہے۔ تو کوئی ہے کہ سوچے، سمجھے۔ (سورۃ القمر ۲۷)۔ ایک اور جگہ اللہ فرماتا ہے’’اللہ نے بہترین کلام اتارا ہے، ایک ایسی کتاب جس کے تمام اجزاء ہم رنگ ہیں اور جس میں بار بار مضامین دہرائے گئے ہیں۔ اسے سن کر ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے ربّ سے ڈرنے والے ہیں‘‘۔ (الزمر ۲۳)۔ جب تک ہم قرآن کو سمجھیں گے نہیں تو کس طرح اس قرآن کو اپنی زندگیوں میں نافذ کریں گے۔ جب کہ قرآن کا تو مقصد ہی یہی ہے کہ اس کو سمجھ کر ہم اپنی زندگی کا دستور العمل بنائیں۔
اصل بات تو یہ ہے کہ ہم قرآن کی تلاوت کے ساتھ ساتھ اللہ کے حلال و حرام کردہ امور کو سمجھیں اور ان سے اجتناب کریں۔ اگر ہم تلاوت قرآن پاک کرنے کے باوجود ہر اس برائی میں مبتلا ہوں جسے مٹا دینے کا اللہ ربّ العزت نے حکم دیا ہو۔ تو ہم تلاوت قرآن کرنے کے باوجود اللہ کے نافرمان لوگوں میں ہی شامل ہوںگے۔ اللہ تو ایک مسلم معاشرے کی تشکیل کے لیے ماں باپ کے کمرے میں داخل ہونے کے لیے کھٹکھٹانے سے لے کر، ناپ تول کے احکامات، سچائی پر مبنی معاشرہ، سود سے پاک معاشرہ، آپس میں صلہ رحمی کا طرز عمل اختیار کرنے والا معاشرہ، انصاف پر مبنی معاشرہ، اللہ کا خوف، اس کے رسول پر مکمل یقین رکھنے والا معاشرہ، بے حیائی اور لہو ولعب سے پاک معاشرہ دیکھنا چاہتا ہے۔ اور اس کے لیے مکمل رہنمائی کے لیے اللہ نے قرآن کریم جیسی کتاب نازل کی۔ اللہ فرماتا ہے کہ ’’جو لوگ اللہ کے قوانین کے مطابق معاشرے کی تشکیل کریں گے اللہ ان کی مغفرت کرے گا اور عزت کی روزی دے گا۔ اور جو اللہ کے نظام کو ناکام بنانے کی کوشش کریں گے اللہ ان لوگو ں کو جہنم میں دھکیل دے گا۔ ایک اور جگہ اللہ فرماتا ہے کہ ’’حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے۔ جو لوگ اسے مان کر بھلے کام کرنے لگے انہیں یہ بشارت دیتا ہے کہ ان کے لیے بڑا اجر ہے اور جو لوگ آخرت کو نہ مانیں انہیں یہ خبر دیتا ہے کہ ان کے لیے ہم نے درد ناک عذاب مہیا کر رکھا ہے‘‘۔ (سورۃ بنی اسرائیل ۱۰:۹)۔ ایک اور جگہ اللہ ربّ العزت فرماتے ہیں ’’حق تو یہ ہے کہ جو ان احکامات کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں نازل کیے ہیں اور تھوڑے سے دنیوی فائدوں پر انہیں بھینٹ چڑھاتے ہیں، وہ دراصل اپنے پیٹ آگ سے بھر رہے ہیں۔ قیامت کے روز اللہ ہر گز ان سے بات نہ کرے گا، نہ انہیں پاکیزہ ٹھیرائے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے ضلالت خریدی اور مغفرت کے بدلے عذاب مول لیا۔ عجیب ہے ان کا حوصلہ کہ جہنم کا عذاب برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ (سورۃ البقرۃ ۱۷۴:۷۵)