گوادر حملہ…

201

جلال نورزئی
افغانستان کی ذیل میں پاکستان کے صاحب اقتدار و مقتدر حلقوں کی نافہمی اور کوتاہیاں اپنی جگہ مسلم ہیں۔ طُرفہ یہ ہے کہ ماضی سے سیکھنے کے بجائے ملک کو پھر آزمائش سے دوچار کیا گیا۔ آٹھ اکتوبر کو امریکی رہبری میں دنیا کے چالیس ممالک افغانستان پر چڑھ دوڑ ے، اور طالبان حکومت ختم ہوئی۔ مگرکچھ ملنے کے بجائے پاکستان زیرعتاب ہی آیا۔ افغانستان تو اجنبی بن ہی گیا۔ چناںچہ پرویز مشرف کی خیانت ملک کے اندر بھی بدامنی اور دہشت گردی کی وجہ بنی۔ بلوچ عسکریت پسندی شدت سے پروان چڑھی۔ سابقہ قبائلی علاقے کا خطہ مذہبی عسکری گروہوں کی دسترس میں گیا۔ یہاں تک کہ خیبر پختون خوا کا کوئی بھی منطقہ ان کے اثر و شر سے باہر نہ رہا۔ بلوچستان کے کالعدم مذہبی گروہ ان کی چھتری تلے مزید قوت پکڑ گئے۔ نتیجتاً عوام کو برسوں مردم کشی اور تباہی کے انتہائی بھیانک واقعات سہنے پڑے۔ یقینی طور پرکابل رجیم سے خیر کی امید نہیں کی جا سکتی۔ جب تک وہاں امریکا اور بھارت کی حاکمیت کا خاتمہ نہ ہو تب تک غنیم پاکستان کو مسلسل پریشان کیے رکھے گا۔ شدت پسند وں کو جتنا بھی دبا دیا جاتا ہے مگر کہیں نہ کہیں اپنا وجود ظاہرکر ہی دیتے ہیں۔ ان چند دنوں میں کوئٹہ اور صوبے کے دوسرے علاقوں میں بدامنی کے واقعات تسلسل سے رونما ہوئے ہیں۔ کو ئٹہ بم دھماکا اور ٹارگٹ کلنگ میں محض سات دنوں میں سات پولیس اہلکار جان سے گئے۔ گوادر میں قیمتی انسانی جانوں کا نقصان الگ ہے۔ جہاں ہفتہ گیارہ مئی 2019 کو چار بلوچ نوجوان عسکریت پسند گوادر کے پنج ستارہ ہوٹل میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ گویا یہ حملہ گوادر بندرگاہ اور وہاں موجود چینی عملہ، پاک فوج، بحریہ اور دوسری فورسز پر تھا۔ جس کے لیے مقام گوادر کے ’’کوہ باطل‘‘ کی بلندی پر واقع پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کی عمارت کو چنا گیا۔ ہوٹل کے دائیں بائیں اور سامنے پھیلا نیل گُوں سمندر کا نہایت ہی حسین و دلفریب منظر ہے۔
بلوچستان کا یہ واحد پنج ستارہ ہوٹل پرویز مشرف کے دور میں ہاشوانی گروپ نے تعمیر کیا، جب گوادر بندرگاہ کو آپریشنل بنانے کے لیے پورٹ آف سنگا پور اتھارٹی سے معاہدہ کیا گیا۔ اسی دور میں کوسٹل ہائی وے کی تعمیر بھی ہوئی۔ عمارت سے پاک بحریہ اور، قریب واقع دیگر فورسز کے دفاتر اور عقبی حصے میں یعنی پہاڑ کے نیچے پورٹ کو ہدف بنانا منصوبہ بندی کا حصہ تھا، تاکہ دستیاب اسلحہ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ نقصان کیا جائے۔ حملہ آوروں نے پہلے پہل راہ میں کھڑے ہوٹل کے دو محافظوں کو گولیاں ماریں، اندر گئے اور وہاں دوسروں کو بھی نشانہ بنایا۔ ہوٹل کا سیکورٹی سپروائزر اویس علی شاہ، سیکورٹی محافظ ظہور اور بلال اور فوڈ منیجر فرہاد جاں بحق ہو ئے۔ ہوٹل کا سول انجینئر جاوید اور ایک محافظ زخمی ہو گئے۔ یقینی طور پر حملہ کی اسکیم کے تحت ہوٹل کے اندر رہائش پزیر افراد یا غیر ملکی مہمانوں کو نشانہ بنانا تھا۔ لیکن وہاں غیر ملکی موجود نہ تھے جس کی مختلف ذرائع سے بھی تصدیق ہو گئی ہے۔ حملہ آور ہوٹل کی چوتھی منزل پر پہنچ گئے تھے اور نیچے کی منزل کے راستوں میں بم نصب کر دیے۔ ان کے پاس خود کار اسلحہ، دستی بم، راکٹ لانچر بھی تھے۔ اطلاعات ہیں کہ ان افراد نے عمارت سے بندرگاہ، بحریہ کے دفاتر پر راکٹ فائر کیے، دستی بم پھینکتے رہے۔ چناںچہ رات گئے تک قانون نافذ کرنے والے اداروں سے معلوم ہوا کہ حملہ آور سب کے سب مارے گئے ہیں۔ شام ہی کو شدت پسندتنظیم نے ذمے داری قبول کر لی۔ حملہ کرنے والے نوجوانوں کی تصاویر، انگریزی زبان میں ان کا ویڈو پیغام اور دوران تربیت کی عکس بندی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر پھیلا دیں۔ یہ تنظیم بلوچ لبریشن آرمی مجید بریگیڈ ہے جس کا سربراہ معروف عسکریت پسند کمانڈر محمد اسلم اچھو تھا جو دسمبر2018ء میں افغانستان کے شہر قندھار میں ایک بم دھماکے میں چند دوسرے کمانڈروں سمیت ہدف بنا۔ بظاہر شک پاکستان پر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے چینیوں کو بھی زد پر رکھا ہے۔ چناں چہ یہ پہلو ان کے پیش نظر ہے۔ اور خُوب جانتے ہیں کہ افغان فورسز پیسوں کے لیے کسی کام سے منہ نہیں پھیر یں گے۔
اسلم اچھو نے حیر بیار مری کی تنظیم بی ایل سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ کیونکہ حیر بیار کے ایک کمانڈر نے ان کی موجودگی کی نشاندہی کی تھی۔ جس پر ان کے خلاف آپریشن ہوا، اور کئی افراد مارے گئے۔ بلوچستان کے ’’سنگان‘‘ کے پہاڑوں میں ہونے والے اس آپریشن میں اسلم اچھو زخمی ہو ئے تھے۔ جس کے بعد وہ افغانستان گئے، وہاں سے ان کا مزید علاج نئی دہلی میں کرایا گیا۔ اسلم اچھو متوسط گھرانے کا نوجوان تھا۔ جس نے عسکری جدوجہد کو سرداروں اور نوابوں کی قیادت سے نکالنے کی راہ اختیار کر لی۔ اسلم اچھو نے گوریلا حملوں کے ساتھ پہلی بار خود کش حملوں کی طرف بلوچ عسکریت پسندوں کو راغب کیا اور سب سے پہلے اپنے نوجوان بیٹے، ریحان بلوچ کو خودکش حملے کے لیے تیار کیا اور اہلیہ کے ہمراہ حملے کے لیے رخصت کیا۔ جس نے 11اگست 2018ء کو بلوچستان کے علاقے دالبندین میں چینی ماہرین کی بس پر بارود سے بھری کار سے حملہ کیا۔ اس حملے میں سیندک پروجیکٹ کے چینی ملازمین زخمی ہو گئے تھے۔ نومبر 2018ء میں کراچی میں قائم چینی قونصل خانے پر بھی گویا اس نوعیت کا حملہ تھا۔ کیوں کہ وہاں بھی بلوچ عسکریت پسند قونصل خانے کی عمارت میں گھسنے اور وہاں بڑے پیمانے پر تباہی پہنچانے کی غرض سے گئے تھے۔ چناں چہ گوادر حملے کی حکمت عملی بھی واپسی کے بجائے مقابلہ کرتے ہوئے موت کو گلے لگانے کی تھی۔ مجید بریگیڈ کو بی ایل ایف اور بی آر اے (بیبرگ گروپ) کا اشتراک حاصل تھا۔ مجید وہ شخص تھا جس نے 70ء کی دہائی کی شورش میں کوئٹہ کے اندر ہاکی گرائونڈ چوک پر اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو پر دستی بم سے حملہ کی کوشش کی تھی۔ لیکن وہ خود ہی اس کی زد میں آکر جان سے گیا۔ والدین نے اس کے بعد پیدا ہونے والے بیٹے کا نام بھی مجید رکھا۔ جسے مجید جونئیر کہا جا تا تھا۔ یہ مجید بلوچستان کی حالیہ جاری شورش میں ایک ماہر و ظالم کردار تھا۔ جو درجنوں پولیس اور آباد کاروں کے ہدفی قتل میں مطلوب و ماخُوذ تھا۔ اس کا ایک بھائی اور بھانجا بھی اس راہ پر تھے۔ ان تینوں پر اکتوبر 2009ء میں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے بلوچستان کے وزیر تعلیم شفیق احمد خان کے قتل کا الزام بھی تھا، جو کوئٹہ میں گھر سے نکلتے ہوئے قتل ہوئے۔ مارچ2010ء میں مجید جونیئر کوئٹہ کی وحدت کالونی کے عقب میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ مقابلے میں مارا گیا۔ پیپلز پارٹی کے ایم پی اے خان آف قلات خاندان کے آغا عرفان کریم کی درخواست پر بلوچستان اسمبلی میں ان کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ صوبے میں حکومت پیپلز پارٹی کی تھی، نواب اسلم رئیسانی وزیر اعلیٰ تھے۔ اس حکومت میں جے یو آئی ف، اے این پی، بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی)، نواز لیگ اور ق لیگ شامل تھی۔ مجید لانگو اسلم اچھو کا قریبی ساتھی تھا۔ اس بنا پر اسلم اچھو نے تنظیم کو مجید بریگیڈ کی نسبت دی۔ الغرض اس صورتحال پر فوج، عمران خان کی حکومت اور جملہ سیاسی جماعتوں کو تشویش ہونی چاہیے۔ یہ کہ کس طرح ان بلوچ نوجوانوں کو منا کر قومی دھارے میں لایا جائے۔ گویا لیپا پوتی، نمائشی حربوں، ہتھیار ڈالنے کی نمود و نمائش اور تھالی چاٹ سیاستدانوں کی باتوں سے ہٹ کر سنجیدہ اقدامات وپیش رفت کی ضرورت ہے۔ خصوصاً وہ بلوچ سیاسی حلقے جنہوں نے یقینا گوادر کے اس واقعے پر اندریں مسرت کا اظہار کیا ہو گا، پر بھی لازم ہے کہ وہ قوم کے نوجوانوں کو موت کے راستے سے امن، سلامتی، تعلیم اور روزگار کی راہ پر آنے کی مخلصانہ کوششیں کریں۔
پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کے آپریشن میں پاک بحریہ کے ایک اہلکار عباس خان بھی جاں بحق ہوئے۔ واضح ہو کہ کوہ باطل کے تین طرف گہرا سمندر ہے۔ جہاں پاکستان بحریہ نے قطعی سخت نگرانی کا نظام قائم کر رکھا ہے۔ گہرے پانی اور اونچے پہاڑ کی وجہ سے حملہ آوروں کا آنا نا ممکن ہے۔ یقینی طور پر حملہ آور واحد زمینی راستہ، فش ہاربار شاہراہ سے گزر کر وہاں پہنچے ہیں۔ اس شاہراہ پر سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹیں مختلف مقامات پر قائم ہیں۔ بی ایل اے نے دس مئی کو ہرنائی کے کھوسٹ میں کوئلہ کان کے مزدوروں پر حملہ کر کے دو افراد کو قتل اور وہاں موجود مشینری نذر آتش کر دی۔ جس کے بعد جائے وقوع پر پہنچے والی فورسز کی گاڑی کو بھی بم کا نشانہ بنایا، دو اہلکاروں سمیت تین جاں بحق ہو گئے۔ تنظیم نے اس کی ذمے داری قبول کر لی۔ حیرت ہے کہ اسی روز کے اخبارات میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے بیان میں اس حملے سمیت پشتون علاقوں میں پچھلے دنوں رونما ہونے والے دہشت گردی کے واقعات پر عدالتی کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ حالانکہ ہر واقعہ معلوم گروہ و تنظیمیں تسلیم کر چکی ہیں۔ پشتونخوا میپ در اصل فورسز کو مورد الزام ٹھیراتی ہے۔ دیکھا جائے تو ہرنائی کے علاقے میں بلوچ عسکریت پسندوں کے مضبوط اثرات رہے ہیں، جو اب بھی ہیں۔