(رمضان المبارک… اکیسواں سبق (لیلۃ القدر

117

عتیق الرحمن خلیل
’’بے شک ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل کیا ہے اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا چیز ہے؟ شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے، اس میں فرشتے اور جبریل امین اپنے پروردگار کی اجازت سے ہر کام (عبادت میں مشغول لوگوں کے لیے دعائوں اور سال بھر کے تقدیر کے فیصلوں) کے لیے اترتے ہیں، وہ رات سراپا سلامتی ہے فجر کے طلوع ہونے تک‘‘۔ (سورۃ القدر)
ہزار مہینے کی عبادت کا ثواب کیوں؟
ایک روایت میں ہے کہ: نبی کریمؐ نے پہلی امتوں کی عمروں کو دیکھا کہ بہت لمبی عمریں ہوئی ہیں اور آپؐ کی ’’امت‘‘ کی عمریں بہت تھوڑی اور کم ہیں۔ اگر وہ نیک اعمال میں ان کی برابری بھی کرنا چاہیں تو ناممکن ہے۔ اس پر آپؐ کو بہت رنج و افسوس ہوا۔ اس کی تلافی کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ رات (شب قدر) مرحمت فرمائی‘‘۔ دوسری روایت میں ہے کہ ’’نبی اکرمؐ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر فرمایا کہ وہ ایک ہزار مہینے تک اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا رہا۔ صحابہ کو اس پر ’’رشک‘‘ آیا تو اللہ نے اس کی تلافی کے لیے اس رات (شب قدر) کا نزول فرمایا‘‘۔ (السنن الکبری للبیہقی)
شب قدر کے فضائل
نبی اکرم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص شب قدر کو ایمان کے ساتھ اور ثواب کے یقین کے ساتھ عبادت میں گزارے گا تو اس کے پچھلے سارے گناہ معاف کردیے جائیں گے‘‘۔ (بخاری)
سیدنا انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرمؐ نے لیلۃ القدر کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’شب قدر میں جبرئیل امین فرشتوں کی جھرمٹ میں زمین پر اترتے ہیں۔ وہ ہر اس شخص کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں جو کھڑے بیٹھے (کسی حال میں) اللہ کو یاد کررہا ہو‘‘۔ (مشکوٰۃ المصابیح)
شب قدر کی وجہ تسمیہ
مفسرین نے قرآن مجید میں اس رات کا نام ’’لیلۃ القدر‘‘ رکھنے کی مختلف وجوہات ذکر کی ہیں۔
لیلۃ القدر میں جو لفظ ’’قدر‘‘ ہے ، اس کا معنی ’’تقدیر و حکم‘‘ کے ہیں، چونکہ اس رات میں تمام مخلوقات کے لیے جو کچھ تقدیر ازلی میں لکھا ہے اس کا جو حصہ اس سال رمضان سے اگلے رمضان تک پیش آنے والا ہے وہ ان فرشتوں کے حوالہ کردیا جاتا ہے جو کائنات کا تدبیر اور تنفیذ امور کے لیے مامور ہیں اس لیے اس کا نام لیلۃ القدر رکھاگیا ہے۔
’’قدر‘‘ کے معنی عظمت و شرافت کے بھی آتے ہیں۔ چونکہ یہ رات بھی عظمت و شرافت والی رات ہے اس لیے اس کا نام بھی ’’لیلۃ القدر‘‘ رکھا گیا ہے۔
اس رات میں بڑی عظیم مرتبے و شان والی کتاب (قرآن مجید) نازل ہوئی ہے۔ دوسرا یہ کہ ذی مرتبہ پر نازل ہوئی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے سورۃ القدر میں لفظ ’’قدر‘‘ تین مرتبہ ذکر کیا ہے۔
اس رات کو لیلۃ القدر کہنے کی چوتھی وجہ یہ ہے کہ ’’قدر‘‘ کے ایک معنی ’’ضیق‘‘ یعنی تنگی کے بھی آتے ہیں۔ چونکہ اس رات میں زمین پر فرشتے اس قدر زیادہ اور کثیر تعداد میں اترتے ہیں کہ زمین باوجود اپنی وسعت و کشادگی کے تنگ پڑ جاتی ہے۔
سیدنا عبادہ بن صامتؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہؐ (ہمیں) شب قدر کی خبر دینے کے لیے تشریف لارہے تھے کہ دو مسلمان آپس میں کچھ جھگڑا کرنے لگے تو آپؐ نے فرمایا: ’’میں تمہیں شب قدر بتانے کے لیے نکلا تھا لیکن فلاں اور فلاں نے آپس میں جھگڑا کرلیا تو اس کی وجہ سے (شب قدر) کا علم واپس اٹھا لیا گیا اور امید یہی ہے کہ تمہارے حق میں یہی بہتر ہوگا۔ لہٰذا اب تم اسے (رمضان کی) اکیسویں، تیسویں اور پچیسویں رات میں تلاش کرو‘‘۔ (صحیح بخاری)
اس مبارک حدیث سے پتا چلا کہ آپس کا جھگڑا اس قدر برا عمل ہے کہ اس کی وجہ سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے نبی اکرمؐ کے قلب اطہر سے شب قدر کی تعیین اٹھالی اگرچہ بعض وجوہ سے اس میں امت کا فائدہ ہوگیا۔
اکثر روایات میں بلاتعیین رمضان المبارک کے اخیر عشرے کی طاق راتوں میں شب قدر تلاش کرنے کا حکم ہے اور یہی سب سے بہتر ہے۔ ایک روایت میں 21ویں شب کا اشارہ ملتا ہے۔ ایک دوسری روایت میں 25 ویں، 27ویں اور 29ویں شب میں شب قدر تلاش کرنے کا حکم مذکور ہے۔ ایک روایت میں صحابی رسول ابی بن کعبؓ 27 ویں شب کو شب قدر قرار دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں۔ ’’اللہ کی قسم میں جانتا ہوں کہ وہ کون سی رات ہے جس کے بارے میں نبی اکرمؐ نے قیام کرنے کا ہمیں حکم دیا تھا، وہ 27ویں رات ہے‘‘۔ (مسلم)
سیدنا انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ جب رمضان کا مہینہ آیا تو رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا: ’’تم پر یہ مہینہ آچکا ہے، اس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جو شخص اس رات سے محروم رہا وہ ساری بھلائیوں سے محروم رہا اور اس رات کی بھلائی سے وہی شخص محروم رہ سکتا ہے جو واقعی بڑا محروم ہو‘‘۔ (سنن ابن ماجہ)
شب قدر کی دعا: ’’اَللّٰھْمَّ اِنَّکَ عَفْوّ کَرِیم تْحِبّْ العَفوَ فَاعفْ عَنِّی‘‘۔ ترجمہ: ’’اے اللہ بے شک آپ معاف کرنے والے ہیں، اور معاف کرنے کو پسند کرتے ہیں پس مجھے بھی معاف فرمادیں‘‘۔ (سنن ترمذی)
شب قدر پانے کا آسان نسخہ: آخری عشرے کی تمام راتوں میں اور بالخصوص طاق راتوں میں سے ہر ہر رات میں درج ذیل اعمال کا اہتمام کریں۔
عشاء و فجر کی نماز باجماعت پڑھیں کیونکہ جو عشاء و فجر باجماعت پڑھتا ہے اسے ساری رات عبادت کا ثواب ملتا ہے۔
اس دعا کا خوف اہتمام کریں۔ ’’اَللّٰھْمَّ اِنَّکَ عَفْوّ تْحِبّْ العَفوَ فَاعفْ عَنِّی‘‘۔
کم از کم دویا چار رکعات نوافل کا اہتمام کریں۔ کم از کم ایک پارہ قرآن کریم کی تلاوت کریں۔
رو رو کر اللہ سے گناہوں کی معافی اور مغفرت طلب کریں۔ حسب استطاعت صدقہ دیں۔