فرشتہ کا قتل اور ہماری بے حسی

106

عالمگیر آفریدی

ابھی قصور میں ننھی کلی زینب سمیت ایک درجن سے زائد معصوم بچیوں اور نوشہرہ کی کم سن عاصمہ کا جنسی زیادتی کے بعد قتل ہونے والا زخم ٹھیک سے بھر نہ پایا تھا کہ دنیا کے خوبصورت ترین دارالحکومت کہلائے جانے والے شہر اسلام آباد میں دس سالہ معصوم بچی فرشتہ مہمند کے اغواء اور جنسی تشددکے بعد قتل کے لرزہ خیز واقعے نے ہماری اجتماعی بے حسی اور خاص کر ہمارے بوسیدہ اور تعفن زدہ ریاستی نظام اور اس میں پولیس کے کردار کو ایک بار پھر بے نقاب کردیا ہے۔ واضح رہے کہ اسلام آباد کے علاقے شہزاد ٹاؤن میں رہائش پزیر ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والے گل نبی نے 16مئی کو متعلقہ تھانے میں رپورٹ درج کروائی کہ اس کی دس سالہ بچی فرشتہ گھر سے غائب ہے۔ اسے شبہ تھا کہ اس کی بیٹی کو اغوا کر لیا گیا ہے لیکن اسلام آباد مثالی پولیس نے پہلے توایک غریب محنت مزدوری کرنے والے شخص کی رپورٹ پر ایف آئی آر درج کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی البتہ جب چند روز بعد جب ننھی فرشتہ کی لاش شہزاد ٹاؤن سے ملحقہ جنگل سے برآمد ہوئی اور اس پر سوشل میڈیا میں ہلچل مچی تو پولیس کو عوامی دبائو اور ممکنہ حکومتی دبائو سے نمٹنے کی غرض سے فرشتہ کے باپ کی شکایت پر ایف آئی آر درج کرنا پڑی اور تقریباً سات آٹھ روز کے بعد جب وزیر اعظم پاکستان کو اپنے پہلو میں اس بہیمانہ قتل کی خبر ہوئی ہے تو انہوں نے سابقہ حکمرانوں کے فرسودہ اور روایتی طریقوں کا سہارا لیتے ہوئے جہاں متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کو معطل کردیا ہے وہاں اس واقعے کی انکوائری کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر معاشرے کی ایک معصوم اور کم سن بچی اسلام آباد جیسے پوش اور حساس شہر میں محفوظ نہیں ہے تو ہماری ان گمنام اور کم سن بچیوں کی عزت وناموس اور ان کی زندگیوں کے تحفظ کا کیا حال ہوگا جو بلوچستان، سندھ، پنجاب اور خیبر پختون خوا کے دور افتادہ اور ریاستی عملداری سے محروم جنگل نما علاقوں میں اپنی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔ رہی بات فرشتہ کی تو وہ ننھی پری ایک عام سے محنت کش کی بیٹی تھی اور یہی اس کا سب سے بڑا جرم تھا۔ اگر اس ننھی پری کا تعلق ملک کی اشرافیہ سے ہوتا تو شاید ابھی تک زمین پھٹ چکی ہوتی، پولیس نے قاتلوں کی تلاش میں زمین آسمان ایک کر دیے ہوتے اور شاید اب تک ہماری آزاد عدلیہ بھی اس المناک واقعے کا ازخود نوٹس لے چکی ہوتی لیکن چونکہ فرشتہ کا تعلق اس معاشرے کے ایک کمزور اور زیریں طبقے سے ہے اس لیے ایساکچھ بھی نہیں ہوا اور شاید دوچار روز کے شور اور فوٹوسیشنز کے بعد بھی مزید کچھ ہونا نہیں ہے کیونکہ یہ تومحض ایک واقعہ ہے جو فرشتہ کے والد اور اہل خانہ کی ہمت اور ثابت قدمی کے باعث سامنے آچکا ہے ورنہ کیا اس تلخ حقیقت سے ہم سب واقف نہیں ہیں کہ اس طرح کے واقعات ہمارے اردگرد روزمرہ کا معمول ہیں اور ہمارا فرسودہ ریاستی نظام ان المناک واقعات کو نہ صرف تحفظ دینے میں پیش پیش رہتا ہے بلکہ اس طرح کے واقعات سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ تھانہ کچہری اور سماجی طور پر یہ پورا معاشرہ جو بے رحمانہ سلوک کرتا ہے اس سے بھی ہم سب بخوبی واقف ہیں۔ ننھی فرشتہ کے المناک قتل پر ایک ہفتے بعد ہمارا میڈیا، سیاستدان اور نام نہاد سول سوسائٹی جو دھما چوکڑی ڈال رہے ہیں اس کے پیچھے فرشتہ یا اس کے بدقسمت خاندان سے ہمدردی یا اظہار یکجہتی سے زیادہ اپنے مفادات کی تکمیل اور اپنی اپنی دکانیں چمکانا ہے اگر ایسا نہیں ہے تو ان تمام طبقات کا مگرمچھ کے آنسو بہانے کے یہ ڈرامے محض اس طرح کے واقعات رونما ہونے اور یہ واقعات منظر عام پر آنے تک ہی کیوں محدود ہیں۔ ایک سوال یہ ہے کہ ہمارا میڈیا، سیاستدان، متعلقہ ادارے اور بحیثیت مجموعی ہمارا معاشرہ آخر کب تک اس خود غرضی اور بے حسی کا مظاہرہ کرتے رہیں گے کیا کبھی یہ تاریک شب روز روشن میں بھی تبدیل ہوسکے گی یاپھر ان اندھیری راتوں میں ٹھوکریں کھاتے رہنا ہی ہمارا مقدر ٹھیرے گا۔
کیا ہماری سیاسی جماعتوں کا کام اس طرح کے اندوہناک واقعات پر محض مذمتی بیانات جاری کرنا ہے۔ کیا ہمارا میڈیا محض ایک دو روز تک اس طرح کے واقعات کو سرخیوں اور بریکنگ نیوز میں جگہ دے کر ان واقعات کے پے درپے اعادے سے خود کو بری الزمہ قرار دے سکتا ہے۔ ہمارے علماء کرام اور فقہائے عظام معاشرے میں پروان چڑھتے جنسی تشدد اور معصوم کلیوں کے چٹخے جانے کے واقعات میں آئے روز ہونے والے اضافے اور اس طرح کے واقعات پر ہماری بے حسی کوکبھی اپنے خطبات اور تقاریر کا موضوع بنا پائیں گے۔یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب پورے معاشرے پر قرض ہے۔ جب تک ہمیں ان سوالات کے جوابات نہیں ملیں گے تب تک فرشتہ جیسی معصوم کلیاں یونہی درندگی کا شکار ہوتی رہیں گی۔ دراصل قصور کی ننھی زینب کے سفاکانہ قتل کے دلخراش واقعے پر سماجی ردعمل سامنے آنے کے بعدیہ امید ہوچلی تھی کہ شاید یہ بوسیدہ نظام اور بے حس معاشرہ جنسی زیادتی کے مجرمانہ فعل کی مذمت کرتے ہوئے ارباب اختیار کو مجبور کردے گا کہ وہ اس طرح کے واقعات میں ملوث مجرموں کو دنوں اور ہفتوں پر مبنی ٹرائل کے ذریعے عبرتناک سزائیں دلوائیں گے لیکن شاید یہ ہماری خوش گمانی تھی کیونکہ اگرایسا نہ ہوتا تو آج ہمارا دل ایک بار پھر فرشتہ اور ہری پور اور بونیر کی اسی طرح کے واقعات کا شکار ہونے والی معصوم کلیوں کے روندے جانے پر خون کے آنسو نہ بہا رہا ہوتا۔