کراچی کے162 ارب کے منصوبے نئے مالی سال میں منتقل

72

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعظم کی طرف سے تھرکے لیے ایک ارب اور کراچی کے لیے اعلان کردہ 162 ارب روپے پیکیج کے تمام منصوبے نئے مالی سال 2019-20 میں منتقل کردیے گئے،محصولاتی آمدنی کا ہدف پورا نہ ہونے اورڈالرکی قیمتوں میں اضافے کے باعث رواں مالی سال 2019 میں ترقیاتی پیکیج پرعملدرآمد وفاقی حکومت کے لیے ممکن نہیں رہا،مارچ 2019ء میں اعلان کردہ وزیراعظم پیکیج پرعملدرآمد کی مدت 6ماہ متعین کی گئی تھی۔وفاقی حکومت کی جانب سے کراچی اورتھرپارکے لیے اعلان کردہ ترقیاتی پیکیج پررواں مالی سال 2019 میں عملدرآمد ناممکن ہوگیا ہے اوروفاقی حکومت کے ترقیات ومنصوبہ بندی ڈویژن نے کراچی کے 18 ترقیاتی منصوبوں اورتھرپارمیں میٹھا پانی فراہمی کے ایک ارب روپے مالیت کے تمام منصوبے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے مارچ 2019ء میں اپنے تیسرے دورہ کراچی میں 162 ارب روپے کے کراچی پیکیج کی منظوری دی تھی، کراچی پیکیج کے تحت شہر قائد میں 18 منصوبوں پر کام کیا جانا تھا جن میں سیوریج،ٹرانسپورٹ سمیت دیگر منصوبے شامل تھے۔ علاوہ ازیں وفاقی حکومت کی طرف سے این ای ڈی یونیورسٹی میں پانی کی مینجمنٹ کا شعبہ قائم کرنے، کورنگی میں سیوریج کے پانی کو قابل استعمال بنانے کے لیے ٹریٹمنٹ پلانٹ، کراچی کو پانی کی فراہمی کے منصوبے کے فور کی نئی لاگت کی 50فیصد فنڈنگ، گرین لائن بس منصوبے کو سرجانی سے نمائش چورنگی تک فعال کرنے کے لیے 8ارب روپے جاری کرنے، کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کے لیے چائنا کے بجائے دوبارہ جاپان کی ڈونر ایجنسی جائیکا سے مدد لینے سمیت دیگرمنصوبوں کے لیے رواں مالی سال میں بجٹ جاری کرنے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم وفاقی حکومت کے مالی بحران کے باعث ترقیاتی پیکیج پر عملدرآمد نہیں کیا جاسکا۔