سندھ میں نئے صوبے کیلئے طاقت کا مظاہرہ کریں گے،فاروق ستار

101

کراچی( آن لائن ) ایم کیو ایم پاکستان کے سابق کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ ہم سندھ میں نئے انتطامی یونٹ کے لیے طاقت کا مظاہرہ کرنے کو تیار ہیں۔ہفتہ کو کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ اتوار کو تنظیم بحالی اور میری جانب سے افطار پارٹی کا اہتمام کیا گیا ہے۔ آفاق احمد اور مصطفی کمال کو بھی دعوت دی ہے۔ میری خواہش ہے کہ جنہیں مدعو کیا ہے وہ ضرور تشریف لائیں،نا مجھے پی ایس پی اور نا ہی نام نہاد ایم کیو ایم پاکستان والوں نے افطار پارٹی میں دعوت دی، میں اس چیز کا گلہ نہیں کررہا کہ مجھے کیوں نہیں بلایا۔ میں نے خالد مقبول صدیقی کو بھی افطار پارٹی میں دعوت دی ہے۔فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کا کام سیاست اور میرا امن کا پیغام پہنچانا ہے۔ پاکستان کے بہتر مفاد میں انتظامی یونٹ بنانا ناگزیر ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے جنوبی سندھ صوبہ نہ بنانے کا شہریوں کو ٹکہ سا جواب دیا ہے۔ عمران خان کا یہ جواب ایم کیو ایم پاکستان کو منظور ہو سکتا ہے لیکن ہمیں نہیں۔ اگر جنوبی پنجاب صوبے کی قرارداد منظور ہو سکتی ہے تو سندھ میں انتظامی یونٹ پر بات کیوں نہیں ہو سکتی۔ ہم ملک میں اور سندھ میں نئے انتظامی یونٹ کے لیے طاقت کا مظاہرہ کرنے کو تیار ہیں۔ ہم معاملات افہام و تفہیم سے سلجھانا چاہتے ہیں، انتظامی یونٹ سے کسی بھی سندھی بھائی کی حق تلفی نہیں ہوگی، اگر میری بات سے سندھی اور کسی کی بھی دل آزاری ہوئی ہے تو میں معذرت چاہتا ہوں۔دوسری جانب ترجمان متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم پاکستان )نے کہا ہے کہ سندھ میں نئے صوبے سے متعلق سیاسی جماعتوں سے رابطے اور ہر قانونی راستہ اختیار کیا جائیگا۔وزیراعظم کے سندھ میں نئے صوبے کی حمایت نہ کرنے کے بیان پر ترجمان ایم کیوایم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کا سندھ میں نئے صوبے سے متعلق مؤقف ان کی جماعت کی رائے ہوسکتی ہے، ایم کیوایم سمجھتی ہے سندھ میں نئے صوبے کے قیام کے لیے آگے بڑھا جائے۔ نئے صوبے سے متعلق سیاسی جماعتوں سے رابطے اور ہر قانونی راستہ اختیار کیا جائیگا۔ترجمان کا کہنا تھا کہ 10 سالوں میں 2 ہزار ارب روپے کا فنڈز چوری کیا گیا، سندھ کے شہروں کا استحصال کیا گیا، جعلی ڈومیسائل کے ذریعے شہری نوجوان کا روزگار چھینا گیا اور سندھ پبلک سروس کمیشن میں تعصب برتا گیا۔