چیئرمین نیب کے استعفے پر ن لیگ کا یوٹرن ،مریم اورنگزیب نے ملک احمد کا بیان ذاتی قراردے دیا

87

اسلام آباد( نمائندہ جسارت )چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے استعفے کے مطالبے پر مسلم لیگ ن نے یوٹرن لے لیا ہے۔ اس حوالے سے ن لیگ کے رہنمائوںکی متضاد رائے سامنے آئی ہے۔پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے رہنما ملک احمد خان نے آڈیو وڈیو اسکینڈل اور صحافی کو دیے گئے انٹرویو کی بنا پر چیئرمین نیب سے مستعفی ہونے اور ان کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کیا ہے تودوسری طرف مسلم لیگ ن کی مرکزی ترجمان مریم اورنگزیب نے ملک احمد خان کا بیان ذاتی قرار دے دیاہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی ملک احمد خان نے کہا ہے کہ چیئرمین نیب نے ملکی نظام کا تماشا لگا دیا ہے،اب وہ احتساب کی پوزیشن میں نہیں رہے۔ شہباز شریف کی ذات پر بغیر ثبوت الزامات لگائے گئے، صاف پانی کیس، آشیانہ میں شہباز شریف کی گرفتاری نہیں ہونی چاہیے تھی۔ شہباز شریف نے چیئرمین نیب کے معاملے پر پارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔اس حوالے سے پارلیمانی کمیٹی بناکر تحقیقات کرائی جائیں۔ چیئرمین نیب کے خلاف عدالت سے بھی رجوع کریں گے۔انہوں نے کہا کہ نیب والے سمجھتے ہیں کہ انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ ہم چیئرمین نیب کے خلاف لاہورہائیکورٹ میں جائینگے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ملک احمد خان نے کہا کہ نیب پی ٹی آئی کے یونٹ کے طور پر کام کررہاہے۔ کاروباری کمیونٹی نے اپنے کاروبار ختم کردیے ہیں۔ملک احمد خان نے کہا کہ نیب کا قانون تبدیل ہونا چاہیے مگر اب بات بہت آگے چلی گئی ہے۔ ان کے خوف سے کوئی بندہ بات کرنے کو بھی تیار نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب کا ادارہ صرف الزامات کی بنیاد پر لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے کے علاوہ کچھ کرہی نہیں رہا۔دوسری جانب مسلم لیگ کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے ملک محمد احمد خان کے بیان سے اظہار لاتعلقی کردیاہے۔مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیاہے کہ ملک محمد احمد خان نے جو کہا، وہ ان کی ذاتی رائے ہے،پارٹی موقف نہیں ہے۔ مسلم لیگ کے صدر ، قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی چیئرمین نیب سے متعلق واضح پارٹی موقف بیان کرچکے ہیں۔مریم اورنگزیب نے کہا چیئرمین نیب کے واقعہ سے متعلق پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے جو سارے معاملے کی تحقیق کرے۔