جامعہ کراچی،شعبہ ابلاغ کے سلیکشن بورڈ کو کالعدم قراردینے کا امکان

61

کراچی(رپورٹ:حماد حسین)جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ میں لیکچرار اور اسٹنٹ پروفیسر کی بھرتیوں کے لیے ہونے والے متنازع سلیکشن بورڈ کو سنڈیکیٹ میں لے جاکرکالعدم کیے جانے کا امکانات بڑھ گئے۔ سلیکشن بورڈ میں نظرانداز کیے جانے والے تمام امیدواروں نے چیلنج کردیا۔دفترشیخ الجامعہ کو متنازع سلیکشن بورڈ کے حوالے سے درخواستیں موصول ہوگئیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قواعد وضوابط کو بلائے طاق رکھتے ہوئے سلیکشن بورڈ میں 8پی ایچ ڈی امیدواروں کے بجائے من پسند 5نان پی ایچ ڈی امیدواروں کوبھرتی کرنے کی کوشش کی گئی۔ذرائع کے مطابق جامعہ کراچی شعبہ ابلاغ عامہ کے سلیکشن بورڈ میںشریک ہونے والے امیدواروں نے سلیکشن بورڈ میں ہونے والی بے قاعدگیوں اور من پسند افراد کو نوازنے کے حوالے سے اس بورڈ کو متنازع قرار دیتے ہوئے سلیکشن بورڈ کو معطلازسرنوبورڈبنانے کی درخواست وائس چانسلر کو جمع کروادی۔ذرائع کے مطابق لیکچرار کی اسامی پر رضوان طاہر مبین، ابتسام مظاہر، حبیبہ چشتی، سعدیہ باقر اور قرۃالعین کو بھرتی کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ انکشاف ہوا ہے کہ مذکورہ 5 امیدواروں میں سے کسی بھی امیدوار نے پی ایچ ڈی نہیں کر رکھا جبکہ سلیکشن بورڈ میں 8 ایسے امیدوار بھی شامل تھے جنہوں نے پی ایچ ڈی بھی مکمل کر رکھا ہے۔اس ضمن میں قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی کا کہنا تھا کہ جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ میںلیکچرار اور اسٹنٹ پروفیسر کی پوسٹوں کے لیے منعقدہ سلیکشن بورڈ پر کئی امیدواروں کی جانب سے اعتراض موصول ہوئے ہیں ہم نے وہ تمام درخواستیں مارک کر کے رجسٹرار کو بھجوادی ہیں۔اب ہم یہ معاملہ سنڈیکیٹ میں رکھیں گے کیونکہ فائنل اتھارٹی سنڈیکیٹ ہے اگر وہ اس سلیکشن بورڈ کو ریفر بیک کرے گا توبورڈدوبارہ بنایاجائے گا۔