دہشت گرد تنظیمیں طالبان سے مذاکرات میں رکاوٹ ہیں‘ پنٹاگون

69

واشنگٹن (آن لائن) امریکی محکمہ دفاع نے کہا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں طالبان سے مذاکرات میں رکاوٹ ہیں۔ پنٹاگون رپورٹ میں القاعدہ اور داعش خراسان کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ طالبان ان گروہوں پر اثر انداز ہونے میں مدگار ہوسکتا ہے۔ اس ضمن میں امریکا اور افغان حکام کا کہنا تھا کہ افغانستان اور پاکستان میں کم از کم 20 دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان میں سے زیادہ تر گروہوں کو عالمی سطح تک رسائی یا پنپنے کا موقع حاصل نہیں، مثلاً تحریک طالبان پاکستان، جو
ایک بڑا دہشت گرد گروہ ہے، کی توجہ پاکستانی حکومت کے خلاف جنگ کرنے پر مرکوز ہے۔ رپورٹ میں دیے گئے اندازوں کے مطابق داعش خراسان، حقانی نیٹ ورک اور تحریک طالبان پاکستان، خطے کے 3 سب سے بڑے گروہ ہیں، جن میں 3 ہزار سے 5 ہزار جنگجو ہیں۔