نیب کی کڑیاں وزیراعظم ہائوس سے مل رہی ہیں،حقائق سامنے لانے کیلئے پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی بنائی جائے،شاہد خاقان

101

اسلام آباد(صباح نیوز)پاکستان مسلم لیگ (ن)کے مرکزی رہنما و سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے حکومتی کرپشن چھپانے کیلیے چیئرمین نیب کو بلیک میل کیا جارہا ہے، سارے معاملے کی کڑیاں وزیراعظم ہائوس سے مل رہی ہیں،چاہتے ہیں قومی اسمبلی قاعدہ244-Aکے تحت معاملے پر خصوصی کمیٹی بنائی جائے اور حقائق سامنے لائے جائیں، چاہتے ہیں چیئرمین نیب کو انصاف ملے، پیر کے روز قومی اسمبلی میں کمیٹی کی تشکیل کے لیے قرارداد پیش کریں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے دیگر پارٹی رہنمائوں کے ساتھ نیشنل پریس کلب اسلا م آبادمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ چیئر مین نیب کی جاویدچودھری سے ملاقات کامعاملہ ابھی تک چل رہا ہے۔چیئرمین نیب نے کہا مجھ پربہت سے دبا ئوہیں کہ حکومت کی کرپشن کے خلاف کارروائی نہ کروں۔ چیئر مین نے کہا کہ اگر وہ حکومتی کرپشن سامنے لے آئیں تو حکومت نہیں رہے گی۔شاہدخاقان نے کہا کہ ایک خاتون سے چیئر مین نیب کی گفتگو کی آڈیو وڈیو ریکارڈنگز سامنے آئی ہیں۔جس خاتون کی وڈیو کا معاملہ ہے اسے گرفتار بھی کیا اور ضمانت پر رہا بھی کیا گیا ۔نیب نے ان وڈیوز کی تردید کردی اور اسے بلیک میلنگ قراردیاہے۔ چیئرمین نیب نے جس طرح دبا ئوکی بات کی اس کی کڑیاں اس سے ملتی ہیں۔جس ادارے نے یہ سب ٹیپ چلائی اس کے مالک عمران خان کے دوست اور مشیرہیں۔ سارے معاملے کی کڑی وزیراعظم ہائوس تک جا پہنچی کہ اس کے پیچھے وزیراعظم ہیں۔ وزیراعظم اور چیئرمین نیب کا اصول مختلف ہے، یہ کہتے ہیںاپنے اوپر الزامات پر بے گناہ ثابت کریں ورنہ آپ مجرم ہو۔ اپوزیشن لیڈر کوجس طرح گرفتار کیا گیا، وہ حقائق بھی سامنے آئیں گے۔ہم چاہتے ہیں چیئرمین نیب کو انصاف ملے ہمیں پہلے دن سے نیب پر شک تھا، اب اس کی کڑیاں ملناشروع ہوگئی ہیں۔حقائق عوام کے سامنے آنے چاہئیں۔ اس مسئلے میں نیب وزیراعظم، چیئرمین نیب، وزیراعظم ہائوس ملوث ہیں۔ ہمارے پاس پارلیمنٹ کا فورم ہے، ہم چاہتے ہیں قومی اسمبلی قاعدہ244-A کے تحت اس معاملے پر خصوصی کمیٹی بنائے۔ پارلیمنٹ قانون بناتی ہے اس کا حق ہے کہ قومی نوعیت کے اتنے بڑے ایشو پر بحث کرے۔ قائد حزب اختلاف نے فیصلہ کیا ہے کہ مسلم لیگ(ن)کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف خصوصی کمیٹی کی تشکیل کے لیے قرارداد پیش کریں گے۔ وزیراعظم اور چیئرمین نیب کا کام ہے کہ کمیٹی کے سامنے اپنی صفائی رکھیں۔ اگر حکومت کمیٹی سے بھاگتی ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ دال میںکچھ کالا ہے ہم تو پہلے بھی کہہ چکے ہیں یہاں پوری دال ہی کالی ہے۔