سری نگر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں مظفر وانی کا قریبی ساتھی شہید

161
سری نگر: برہان مظفر وانی کے قریبی ساتھی کے جنازے میں ہزاروں افراد شریک ہیں‘ چھوٹی تصویر شہیدذاکر موسیٰ کی مظفر وانی کے ساتھ یادگار تصویر
سری نگر: برہان مظفر وانی کے قریبی ساتھی کے جنازے میں ہزاروں افراد شریک ہیں‘ چھوٹی تصویر شہیدذاکر موسیٰ کی مظفر وانی کے ساتھ یادگار تصویر

سری نگر(خبر ایجنسیاں) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے مشہور حریت رہنما برہان وانی کے قریبی ساتھی ذاکر موسیٰ کو شہید کردیا،انتخابات میں نریندر مودی کی جیت پر مقبوضہ کشمیر میں ایک بار پھر خون کی ہولی کھیلی گئی۔ بھارتی فورسز نے ضلع پلوامہ میں برہان وانی کے ساتھی اور نوجوان مجاہد کمانڈر ذاکر موسیٰ کو شہید کردیا۔ شہادت کے بعد احتجاج روکنے کے لیے وادی بھر میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔ہزاروں لوگوں نے کرفیو، پابندیوں اور تیز بارش کوخاطر میں نہ لاتے ہوئے ضلع پلوامہ کے علاقے ترال میں ممتاز مجاہد کمانڈرذکر موسیٰ کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ شہید کے جسد خاکی کو جلوس کی صورت میں جناز ہ گاہ تک لے جایا گیا ۔ لوگوں نے اس موقع پر آزادی کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے ۔ خواتین نے اپنے گھروں کی چھتوں اور کھڑکیوں سے شہید کمانڈر کے جسد خاکی پر گل پاشی کی ۔ بڑی تعداد میںلوگوں کی موجودگی کے باعث شہید کی نماز جنازہ متعدد مرتبہ اد ا کی گئی ۔ لوگ اپنے جوان ہیرو کی آخری جھلک دیکھنے لیے بے تاب تھے۔ علاقے میں بڑی تعداد میں تعینات بھارتی فوج اور پولیس اہلکاروں نے لوگوں کو نورپورہ پہنچنے سے روکنے کے لیے ترال کی طرف جانے والی تمام سڑکیں سیل کر دی تھیں۔ کشمیر یونیورسٹی سرینگر اور دیگر مقامات پر بھی شہید کمانڈر کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ بھارتی فوجیوں نے ذاکر موسیٰ کو گزشتہ شام ضلع پلوامہ کے علاقے ڈاڈسر ترال میں ایک جھڑپ کے دوران شہید کر دیا تھا۔ ان کی شہادت کے بعد گزشتہ رات مقبوضہ وادی کے متعدد علاقوں میں زبردست مظاہرے شروع ہو گئے تھے جس کے بعد قابض انتظامیہ نے مقبوضہ وادی میں کرفیو اور پابندیاں نافذ کردیں اور انٹرنیٹ سروس معطل کر دی تھی۔ مقبوضہ وادی کے تمام اضلاع میں بڑی تعداد میں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کر دیے گئے ۔ کرفیو اور پابندیوں کے باعث سرینگر کی تاریخی جامع مسجد اور مقبوضہ علاقے کی دیگر مساجد میں نماز جمعہ ادا نہیں کی جاسکی۔ انتظامیہ نے طلباء کو مظاہروں سے روکنے کے لیے پوری مقبوضہ وادی میںتمام تعلیمی ادارے بھی بند رکھنے کا حکم دیا تھا۔ ترال، پلوامہ ، سرینگر ، اسلام آباد، سوپور اور دیگر علاقوں میں لوگ پابندیاں توڑتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور ذاکر موسی اور ان کے ساتھی کی شہادت پر مظاہرے کیے ۔ بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پیلٹ چلائے اور آنسو گیس کے گولے داغے جس کے باعث متعدد مظاہرین زخمی ہو گئے۔ دریں اثنا ذاکر موسیٰ کے قتل پر احتجاجی ریکارڈ کرانے کے لیے مقبوضہ وادی کشمیر اور جموں خطے کے ضلع رام بن کے قصبے بانیہال میں ہڑتال کی گئی ۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی اور حریت رہنمائوں محمد اشرف صحرائی، مختار احمد وازہ ، شبیر احمد ڈار، محمد اقبال میر، امتیاز احمد ریشی ، غلام نبی وسیم اور غلا م نبی وار نے سرینگر سے جاری اپنے بیانات میں ذاکر موسیٰ کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا ۔