۔6 ارب ڈالر پروگرام سے پاکستان معاشی طور پر مستحکم ہوگا،آئی ایم ایف

75

اسلام آباد‘ واشنگٹن (نمائندہ جسارت‘ آن لائن) آئی ایم ایف نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کے ساتھ 6 ارب ڈالر پروگرام پر بات چیت مکمل ہوئی ہے۔ یہ بات عالمی مالیاتی فنڈ کے ترجمان گیری رائس نے پریس بریفنگ کے دوران بتائی۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے قرضہ جاتی پروگرام پر بات چیت مکمل ہوگئی اور 6 ارب ڈالر کے پروگرام سے پاکستان معاشی طور پر مستحکم ہوگا،پاکستان کے لیے قرضوں کا دباؤ کم ہوگا اور اس سے پاکستان میں اقتصادی ترقی بڑھے گی۔ پروگرام سے سماجی شعبوں میں زیادہ رقوم استعمال ہوگی اور ملک میں انفرااسٹرکچر کی بہتری ممکن ہوگی۔ترجمان نے کہا کہ آئی ایم ایف منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لوگارڈ نے وزیراعظم پاکستان سے ملاقات کی جس کے بعد پاکستان اور آئی ایم ایف حکام کے درمیان 12 مئی کو 6 ارب ڈالر کے 3 سالہ پروگرام پر اسٹاف لیول مذاکرات ہوئے۔ ترجمان جیری رائس کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان میں معاشی اصلاحات چاہتے ہیں۔ آئی ایم ایف کے پروگرام کا مقصد پاکستان کے مالی معاملات کی بہتری، قرضوں میں کمی اور پاکستان کو پائیدار ترقی کے راستے پر ڈالنا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام سے پاکستان میں سماجی شعبوں کے لیے زیادہ فنڈز میسر آئیں گے۔خیال رہے کہ تحریک انصاف نے اقتدار میں آنے کے بعد ملکی معیشت کو مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا تھا لیکن ملک کی خراب معاشی صورتحال کے باعث حکومت کو آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا جس پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ تاہم اب پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات طے پا چکے ہیں۔ اس حوالے سے مشیر خزانہ ڈاکٹرعبدالحفیظ پاشا نے بتایا تھا کہ آئی ایم ایف سے قرضے کے لیے ایف اے ٹی ایف سے کلیئرنس لینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ6 ارب ڈالرز حجم کا قرضہ دراصل 3ارب ڈالرز ہے کیونکہ باقی 3 ارب ڈالرز3 سال میں آئی ایم ایف کو واپس ادا کرنا ہوں گے