آئی ایم ایف اور سود کی لعنت اقتصادی بحران سے نجات نہیں دلاسکتے،حافظ نعیم

96

کراچی(اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی کراچی کے امیرحافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ سود کی لعنت کی موجودگی میں بیرونی قرضوں، ورلڈ بینک و آئی ایم ایف کی غلامی اور اقتصادی بحران سے نجات حاصل نہیں کی جاسکتی ۔ ملک کی سیاست ،حکومت ،معیشت ،معاشرت اور عدالت سمیت زندگی کے ہر شعبے کو قرآنی احکامات کے تابع کرنے کی ضرورت ہے،اللہ کے دین اور اجتماعی نظام کو نافذ کرنے سے برکتیں اور رحمتیں نازل ہوں گی ، دین کا غلبہ اور قرآن کی بالادستی ہمارا مقصد حیات ہونا چاہیے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی علاقہ سر جانی ٹائون کے تحت سیکٹر 7ڈی میں دعوتِ افطار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
دعوتِ افطار سے ضلع شمالی کے امیر محمد یوسف نے بھی خطاب کیا ۔ حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ عوام کو مسائل سے نجات اور عدل و انصاف اس وقت تک فراہم نہیں ہوسکتا جب تک کہ اسلامی نظام حکومت قائم نہ ہوجائے ، اسلام کا عادلانہ نظام ہی سب کو انصاف فراہم کرسکتا ہے، اس نظام میں امیرو غریب اور حاکم و عوام سب کے ساتھ یکسا ں سلوک ہوگا ،ہماری ذمے داری ہے کہ ہم ملک میں اسلام کا عادلانہ اور منصفانہ نظام قائم کر نے کی جدو جہد کریں ۔ انہوں نے کہا کہ حکمران آئی ایم ایف سے قرضے لے رہے ہیں ، جس کا فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کے ایمان اور عقیدے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ، ہمارے نصاب میں قرآنی آیات ختم کرنے ، توہین رسالت ؐ کے قانون میں ترمیم کرنے ، ٹیکسوں میں اضافے اور ملک میں مہنگائی کرنے کی ڈیل کی گئی ہے ۔ہمارے حکمرانوں کے اندر جرأت نہیں کہ آئی ایم ایف سے دوٹوک بات کریں، ملک کی معاشی حالت اس وقت تک درست نہیں ہوسکتی جب تک معاشی نظام سود سے پاک نہ ہو ،پورا نظام معیشت سود پر چل رہا ہے جو کہ اللہ اور رسول ؐ سے جنگ کے مترادف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک قرآن کا مہینہ ہے ، دین کا تقاضا اور قرآن کی پکار یہی ہے کہ قرآن پر عمل کیا جائے اور سود سے پاک معاشی نظام نافذ کیا جائے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ یکجا اورمتحد ہوکر مزاحمتی قوت بنیں اور طاغوتی قوتوں کو للکاریںاور یہی قرآن کا پیغام ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ رمضان المبارک ہم سب کے لیے ایک بہت بڑا تحفہ ہے ، جس میں تینوں عشروں کی فضیلت بتائی گئی اور دعائیں بھی سکھائی گئیں،دوسرا عشرہ اختتام پذیر ہے۔ رمضان میں نفل نماز کا ثواب فرض نماز کے برابر کردیا جاتا ہے جبکہ فرض نماز کا ثواب 70 نمازوں کے برابر ہوجاتاہے ، اللہ تعالیٰ نے ماہ رمضان میں ایک ایسی رات بھی رکھی ہے جو ہزاروں راتوں سے افضل ہے جس میں پچھلے تمام گناہوں کی بخشش کی جاتی ہے ۔اس لیے ہمیں فضیلتوں ، برکتوں والے اس مہینے کواپنی مغفرت اور بخشش کا ذریعہ بنا نا چاہیے ۔ محمد یوسف نے کہا کہ رمضان المبارک اپنی رحمتوں و برکتوں کے ساتھ گزر رہا ہے ۔ ضروری ہے کہ ہم اپنے ہر ہر لمحے کو عبادت کے لیے گزاریں اور اپنے معمولات زندگی قرآن کے مطابق بنانے کی کوشش کریں ۔ رمضان کے مہینے میں اجتماعی و انفرادی طور پر اللہ کے حکم پر عمل کر نے کی تربیت اور مشق کرائی جا تی ہے ۔ درحقیقت یہ تربیت اپنی پوری زندگی اللہ کے حکم کے مطابق گزارنے کی تربیت ہے۔