کوئٹہ مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع میں دھماکا ،امام سمیت 3 شہید ،28 زخمی

132
کوئٹہ: مسجد میں دھماکے کے بعد تباہی پھیلی ہوئی ہے، چھوٹی تصویر میں زخمی کو طبی امداد دی جارہی ہے
کوئٹہ: مسجد میں دھماکے کے بعد تباہی پھیلی ہوئی ہے، چھوٹی تصویر میں زخمی کو طبی امداد دی جارہی ہے

کو ئٹہ(نمائندہ جسارت) کوئٹہ کے علاقے پشتون آباد میں مسجد کے اندر نماز جمعہ کے وقت دھماکے میں امام سمیت 3 افراد شہید اور28زخمی ہوگئے ، وزیراعلیٰ بلوچستان نے انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مساجد اور شہر کی سیکورٹی مزید سخت کرنے کی ہدایت کردی۔پولیس کے مطابق پشتون آباد میں واقع رحمانیہ مسجد میں زور دار دھماکا اس وقت ہوا جب لوگ نماز جمعہ کے لیے مسجد آرہے تھے ، دھماکے سے مسجد کو نقصان پہنچا اور قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گے، دھماکے کے بعد سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ پولیس کے انسداد دہشت گردی محکمہ اسپیشل برانچ اور کرائم برانچ کے اہلکاروں نے جائے وقوع سے شواہد اکٹھے کیے، شہید افراد میں نائب خطیب مولوی عطاالرحمن ولد عبدالعلیم اور شاہ زیب ولد محمد اکرم اور سلطان ولد بازمحمد جبکہ زخمیوں میں روزی محمد، سردار محمد، راشد علی، رحیم داد ،عبدالرحمن، عزیر اللہ ،فدا محمد، حکمت اللہ، محمد سرور سعد ،محمد اجمل خان، دلشاد احمد، نورالدین، خواجہ محمد مشتاق، محمد یعقوب، محمد یونس حبیب اللہ ،سمیع اللہ ،گل شاہ ،محمد آصف، ناصر، حاجی عبدالرحمن اور سلطان محمد شامل ہیں ۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے فورا بعد مسجد میں بھگدڑمچ گئی لوگ اپنے پیاروں کو تلاش کرتے رہے ،دھماکے سے مسجد کو شدید نقصان پہنچا لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو گاڑیوں ایمبولینسوں، رکشوں کے ذریعے سے اسپتال منتقل کیا۔ ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے جائے وقوع کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا کے نمائندوں کو بتایا اب تک کی اطلاعات کے مطابق دھماکا ٹائم ڈیوائس کے ذریعے سے کیا گیا جو رکن کے نیچے نصب کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ شہر میں 1500 کے قریب اہلکار تعینات کیے گئے ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں ڈی آئی جی نے بتایا سیف سٹی پروجیکٹ میں کچھ ٹیکنیکلوجوہات کی بنا پر تاخیر ہو رہی ہے۔ نماز جمعہ کے وقت سیکورٹی ہائی الرٹ تھی اور اس موقع پر پولیس اور ایف سی کی اضافی نفری بھی تعینات کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا دھماکے کی تحقیقات پولیس کے انسداددہشت گردی محکمہ سی ٹی ڈی کے ساتھ ملکرکررہے ہیں ۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق ٹائم ڈیوائس دھماکے میں 2 سے ڈھائی کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا ہے۔ گورنر بلوچستان امان اللہ یاسین زئی اور وزیراعلیٰ ٰ بلوچستان جام کمال اور وزیرداخلہ بلوچستان ضیاء لانگو نے انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ۔شہیدافراد کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعاکی ۔ وزیراعلیٰ جام کمال خان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مبارک ماہ میںبے گناہ افراد کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے والے سخت سزا کے مستحق ہیں۔ انہوں نے پولیس اور سیکورٹی اداروں کو شہر بھر میں سیکورٹی اقدامات کو مزید موثر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے پشتون آباد بم دھماکے کی رپورٹ طلب کرلی۔ دوسری جانب آئی جی سندھ ڈاکٹر سید کلیم امام نے کوئٹہ پشتون آباد مسجد دھماکاکے تناظر میں سندھ پولیس کو ہائی الرٹ کرتے ہوئے سیکورٹی اقدامات انتہائی چوکنا اور مستعد رہتے ہوئے انجام دینے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ آئی جی سندھ نے کہاکہ حساس علاقوں میں انٹیلی جنس بڑھانے ،تھانوں کی سطح پر روابط مربوط کرنے، پیٹرولنگ،پکٹنگ،ناکا بندی سخت بنانے جبکہ رینڈم اسنیپ چیکنگ کے مجموعی اقدامات کو غیرمعمولی بنایا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مرکزی مساجد،امام بارگاہوں،نمازتراویح کے دیگر کھلے مقامات کی سیکورٹی کے لیے اندرونی حصوں و اطراف میں مخصوص پوائنٹس بنا کر مجموعی امور کو ٹھوس اورمؤثر بنایا جائے ۔سیکورٹی اقدامات اورپلان پر عمل درآمد کے حوالے سے کوئی غفلت ولاپروائی ناقابل برداشت ہوگی۔