وزیراعظم کا کسن فرشتہ کے قتل کا نوٹس ،اہل خانہ کو 20 لاکھ دینے کی منظوری

62

اسلام آباد(نمائندہ جسارت) وزیراعظم عمران خان نے 10 سالہ بچی فرشتہ سے زیادتی اور قتل کا نوٹس لے لیا جب کہ ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے بچی کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے 10 سالہ بچی فرشتہ سے زیادتی کے بعد قتل کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد اور ڈی آئی جی آپریشنز سے وضاحت طلب کرلی۔ وزیراعظم نے ایس ایچ او کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایس ایچ او کے خلاف فوری طور پر محکمانہ کارروائی شروع کی جائے۔وزیراعظم نے جوڈیشل انکوائری مکمل ہونے تک ڈی ایس پی کو معطل اور ایس پی کو او ایس ڈی بنانے کا حکم دیا جب کہ روزانہ کی بنیاد پر واقعے کی اپ ڈیٹس دینے کی بھی ہدایت کی۔دوسری جانب پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے اپنی ٹوئٹ میں معصوم فرشتہ کے بہیمانہ قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے جب کہ پاک فوج فرشتہ قتل کیس میں ہر قسم کی مدد کے لیے تیار ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی کہا کہ جو مکروہ اور قابلِ نفرت عناصر ہمارے معصوم بچوں کو نشانہ بنارہے ہیں ہمیں ان کے خلاف یکجا ہوکر ا ٹھنا ہوگا تا کہ اپنی نسل کا مستقبل محفوظ بنا یا جاسکے۔علاوہ ازیںاغوا، زیادتی کے بعد قتل ہونے والی بچی فرشتہ کے کیس میں غفلت برتنے پر ایم ایل او پولی کلینک اسپتال کو برطرف کردیا گیا جبکہ حکومت نے فرشتہ کے لواحقین کو مالی امداد دینے کی منظوری دے دی۔حکومت نے فرشتہ کے لواحقین کو مالی امداد کے طور پر 20 لاکھ روپے دینے کی منظوری دیتے ہوئے اس کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ فرشتہ قتل کے خلاف لواحقین، پشتون تحفظ موومنٹ اور دیگر افراد نے ترامڑی چوک پر دھرنا دیا تھا۔ احتجاج کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات میں لواحقین کی مالی مدد کا مطالبہ کیا گیا تھا جسے حکومت نے منظور کیا تھا۔دوسری جانب انتظامیہ نے فرشتہ قتل کیس میں غفلت برتنے والے افسران کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ایم ایل او پولی کلینک اسپتال ڈاکٹر عابد شاہ کو عہدے سے ہٹا دیا۔ ڈاکٹر امتیاز احمد کو نیا میڈیکو لیگل آفیسر پولی کلینک تعینات کردیا گیا ہے۔ڈاکٹر عابد شاہ پر ننھی فرشتہ کے پوسٹ مارٹم میں غفلت برتنے کا الزام تھا اور ایم ایل او کی عدم دستیابی کے باعث فرشتہ کا پوسٹ مارٹم رات گئے ہوا تھا۔ فرشتہ کے لواحقین نے پولی کلینک انتظامیہ کے نامناسب رویے کی شکایت کرتے ہوئے پوسٹ مارٹم میں دیر کرنے پر اسپتال انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا تھا۔علاوہ ازیں کیس میں غفلت کے مرتکب پولیس اہلکاروں کیخلاف ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر وسیم احمد خان کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن نے کام کا آغاز کرتے ہوئے تمام فریقین کے بیانات ریکارڈ کرلیے۔ کمیشن 7 روز میں اعلی حکام کو رپورٹ جمع کرائے گا۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ وہ تین دن تک مقدمے کے اندراج کے لیے ایس ایچ او کو فون کرتے رہے لیکن انہوں نے بات نہیں کی۔واضح رہے کہ 15 مئی کو وفاقی دارالحکومت کے علاقے چک شہزاد میں درندہ صفت مجرموں نے معصوم فرشتہ کو زیادتی کے بعد قتل کرکے جنگل میں پھینک دیا تھا۔