نیب کے رویے سے لوگ ذہنی دبائو کا شکار ہیں،چیف جسٹس

97

اسلام آباد(نمائندہ جسارت) چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ نیب آخر کرتا کیا ہے؟ نیب کے اسی رویے کی وجہ سے لوگ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔کرپشن کیس کے ملزم کی بریت کے خلاف سپریم کورٹ میں نیب اپیل کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ ملزم جہان خان کے اثاثے تو آمدن سے زائد نہیں۔ 80 لاکھ کی آ مدن سے 46 لاکھ کے اثاثے بنانا تو سمجھ آ تاہے۔ نیب کی جانب سے 2001 سے 2019 تک ملزم کو گھسیٹا گیا۔ نیب ان 19 سالوں کا ازالہ کیسے کرے گا۔ نیب کو تو اس کیس میں جرمانہ ہو نا چاہیے۔ نیب کا مقصد صرف پکڑ دھکڑ نہیں ہے، نیب کا مقصد کیس ثابت کرنا ملزم کو سزا دلوانا بھی ہے، نیب کو سوچنا چاہیے کہ صرف کیس بنانا مقصد نہیں ہے ،نیب کو چاہیے جس پر کیس بنائے شواہد بھی ساتھ لگائے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 19 سال سے ملزم کو رگڑا لگایا جا رہا ہے، ملزم پر جس عہدے کی بنیاد پرکرپشن کا الزام ہے اس عہدے کا ثبوت تک نہیں۔ نیب آخر کرتا کیا ہے؟ نیب کے اسی رویے کی وجہ سے لوگ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ سپریم کورٹ نے ملزم عطا اللہ کی بریت کیخلاف نیب اپیل مسترد کردی۔