ترقیاتی بجٹ 1837 ارب کا ہوگا،صوبوں کیلئے 912 ارب روپے رکھے ہیں،خسرو بختیار

71

اسلام آباد (اے پی پی) وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ 2019-20ء کا ترقیاتی بجٹ 1837 ارب کا ہو گا جس میں سے آئندہ مالی سال کا وفاقی ترقیاتی بجٹ 925 ارب جبکہ صوبوں کا حصہ 912 ارب روپے ہو گا، موجودہ حکومت معیشت کے استحکام کے لیے بھرپور اقدامات اٹھا رہی ہے، یہ ہماری حکومت کا پہلا پی ایس ڈی پی ہے، شدید مالی مشکلات کے باوجود اگلے مالی سال کے پی ایس ڈی پی میں کچھ نئے اور اہم سیکٹرز کے لیے رقم مختص کی گئی ہے جس میں کلین گرین پاکستان، موسمیاتی تبدیلی، نالج اکانومی، انسانی وسائل کی ترقی، زراعت کی ترقی اور علاقائی مساوی ترقیاتی پروگرام کے منصوبے شامل ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے جمعرات کو سالانہ منصوبہ بندی رابطہ کمیٹی (اے پی سی سی) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں صوبائی وزرا، صوبوں کے نمائندوں، وفاقی سیکرٹریز اور تمام وزارتوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں موجودہ مالی سال کے پی ایس ڈی پی کا جائزہ لیا گیا جبکہ اگلے مالی سال کا پی ایس ڈی پی بھی پیش کیا گیا۔ اجلاس میں وزارت منصوبہ بندی کے چیف میکرو ظفر الحسن نے موجودہ مالی سال کی معاشی کارکردگی پر شرکاء کو بریفنگ دی اور اگلے مالی سال کے معاشی اہداف پیش کیے۔ آئندہ مالی سال کے پی ایس ڈی پی کی تیاری میں تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ طویل مشاورت کی گئی ہے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نے کہا کہ اگلے مالی سال کے پی ایس پی ڈی میں بجٹ کی رکاوٹوں کے تحت حکومت کی پہلی ترقیاتی پورٹ فولیو ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کا وفاقی ترقیاتی بجٹ 925 ارب کا ہو گا جس میں بڑے ڈیموں بھاشا، داسو اور مہمند کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 675 ارب روپے پی ایس ڈی پی اور 250 ارب روپے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے لیے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اے پی سی سی میں تمام وزارتوں اور صوبوں کے نمائندے شامل ہیں، صوبوں کے ساتھ کوآرڈینیشن کے لیے ماہانہ کوآرڈینیشن کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک، اے ڈی بی سے 250 سے 300 ارب روپے ملنے کی امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے جو پلان بنایا تھا ان میں سے 2 کھرب کے 393 منصوبے شامل کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ توانائی سیکٹر میں بجلی کی پیداوار اور طلب برابر ہے، ابھی ہم بجلی کی ترسیل کے شعبہ پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں تاکہ اس کا ترسیلی نظام بہتر سے بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 5 سال میں زراعت کے شعبے کی آدھی فیصد گروتھ تھی، موجودہ حکومت نے زراعت کے شعبے کے لیے رقم بڑھائی ہے تاکہ یہ شعبہ ترقی کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترقی کی حکمت عملی غریب اور کمزور اور علاقائی مساوات کی حمایت کے لیے زیادہ مواقع پیدا کرنا ہے، بڑے شعبوں کے انفرااسٹرکچر پر کام جاری رہے گا تاہم سماجی شعبے کو زیادہ اہمیت دی جائے گی۔ بلوچستان، جنوبی پنجاب، دیہی سندھ اور جنوبی خیبرپختونخوا سمیت پسماندہ اور دیہی علاقوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی، سی پیک کے تحت منصوبوں کی شیڈول کے مطابق تکمیل کے لیے ضروری وسائل فراہم کیے گئے ہیں۔