چیف جسٹس کا ضمانت قبل ازگرفتاری کے اصولوں پر دوبارہ غور کا عندیہ

246

چیف جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے ضمانت قبل ازگرفتاری کے اصولوں پر دوبارہ غور کا عندیہ د یتے ہوئے  کہا ہے کہ ضابطہ فوجداری ضمانت قبل ازگرفتاری کی اجازت نہیں دیتا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے ضمانت قبل ازگرفتاری کے عام مقدمے میں ریمارکس میں کہا ضابطہ فوجداری ضمانت قبل ازگرفتاری کی اجازت نہیں دیتا، ضمانت قبل ازگرفتاری گنجائش ہدایت اللہ کیس میں نکالی گئی، کسی عزت دار کو کیس میں نہ پھنسایا جائے اس لیے گنجائش نکالی گئی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا سوال یہ تھا کیا عدالت کو عزت دارشخص کی محفوظ نہیں کرنا چاہیے۔جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے ضمانت قبل ازگرفتاری کے اصولوں پر دوبارہ غور کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہدایت اللہ کیس 1949میں آیا تھا جو زمانہ بدل گیاہے، ہرکیس میں ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواستیں آجاتی ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے ڈکیتی کے ملزم کی ضمانت قبل ازگرفتاری کے خلاف اپیل مسترد کردی، ملزم نے ہائی کورٹ سے ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرائی تھی، جس کے بعد ڈکیتی سے متاثرہ فریق نے ضمانت قبل از گرفتاری منظور ہونے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔