غزوہ بدر

96

ایمان، جہاد اور شوق شہادت نے دنیاوی اسباب کو شکست دی
سن 2ھ کے آغاز پر قریش کا ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ ابو سفیان کی قیادت میں شام کی طرف جارہا تھا۔ قافلے میں لاکھوں کا مال و اسباب اونٹوں پر لدا ہوا تھا۔مسلمان جانتے تھے کہ اگر قریش کی معیشت مضبوط ہو گئی، تو وہ اسلام کو مٹانے میں ذرہ برابر تامل نہیں کریں گے۔ اس لیے مسلمانوں نے اس قافلے کو روکنے کی کوشش کی، تاکہ کافروں کی عسکری طاقت کی بنیاد ہی مسمار ہو جائے اور انہیں مسلمانوں پر حملہ کرنے کا موقع نہ ملے، لیکن قافلہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔
قافلے کے واپس ہونے کی اطلاع ملی تو 12 رمضان المبارک 2 ہجری کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم 313 مسلمانوں کو ساتھ لے کر مدینہ سے روانہ ہوئے ، جن میں 60 مہاجر اور باقی انصار تھے۔ ابوسفیان کو مسلمانوں کی آمد کا علم ہوا تو اس نے تیز رفتار سوار مکہ دوڑایا اور قریش مکہ کے نام پیغام بھیجا کہ اپنا مال و اسباب بچاؤ۔پیغام ملتے ہی قریش ایک ہزار سپاہی ،100 گھوڑے اور 170اونٹ لے کر نکل پڑے۔ جب کہ مسلمانوں کی تعداد 313 پیادہ فوج پر مشتمل تھی، اور ان میں صرف 2گھڑسوار تھے، جب کہ 70 اونٹ ساتھ تھے۔
بدر مدینہ منورہ سے 80 میل کے فاصلے پر واقع ایک جگہ ہے۔ قریش نے وہیں پڑاؤ ڈالا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے رائے دریافت کی۔ سب نے جنگ کرنے کی موافقت کی۔ رمضان 2 ہجری بمطابق 13 مارچ 624ء کو آپؐ نے فوج کی صف بندی کی اور دست مبارک بارگاہ رحمت میں دراز کرتے ہوئے التجا کی : اے پرودگار !جو آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے اسے پورا فرمائیں۔ آج اگر یہ مٹھی بھر جماعت مٹ گئی تو تاقیامت آپ کی عبادت کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔
یہ صبر آزما امتحان تھا۔مسلمانوں کے تلواروں کے نیچے ان کے قلب و جگر کے ٹکڑے اور بزرگ بھی آ رہے تھے، لیکن اسلام کی محبت رشتوں کی محبت پر غالب تھی۔ تاہم مسلمانوں نے ہر شے کو فراموش کرکے اسلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وفا داری کا ثبوت دیا۔ گھمسان کی جنگ میں ابوجہل، امیہ بن خلف اور عتبہ سمیت قریش کے بڑے بڑے سردار مارے گئے۔ اس دوران مشرکین کے 70افراد قتل ہوئے اور اتنے ہی قیدی بنائے گئے۔ جب کہ 14مسلمانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔
قیدیوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس ،حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بھائی عقیل اور آپؐ کے داماد ابو العاص بھی تھے۔ قیدیوں کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں تقسیم کر دیا گیا اور ان سے حسن سلوک کا تاکیدی حکم بھی سنا دیا گیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی اپنے جان کے دشمنوں سے ایسے کریمانہ سلوک سے پیش آئے کہ خود کھجوروں پر گزارہ کر کے قیدی بھائیوں کو کھانا کھلاتے۔ جن کے پاس مال تھا ان کی حیثیت کے مطابق فدیہ لے کر چھوڑ دیا گیا اور جن کے پاس مال نہیں تھا ان سے کہا گیا کہ ہر قیدی مسلمانوں کے 10 ، 10 بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دے۔ ان کا یہی فدیہ ہے۔
عزوہ بدر کے واقعے نے یہ ثابت کر دیا کہ ثابت قدمی ، جذبہ جہاد ، شوق شہادت ، اطاعت امیر سے کڑے حالات کو اچھے حالات کی طرف موڑا جا سکتا ہے۔ محض دنیاوی وسائل، آلات جنگ اور سپاہیوں کی کثرت ہی جنگ جیتنے کے لیے کافی نہیں ہوتیں۔