شام میں روس کی وحشیانہ بمباری،12 شہری شہید ،20 زخمی

105
معرۃ النعمان: روسی بم باری کے نتیجے میں بازار تباہ ہوگیا ہے‘ لاشیںا ور زخمی اسپتال منتقل کیے جارہے ہیں
معرۃ النعمان: روسی بم باری کے نتیجے میں بازار تباہ ہوگیا ہے‘ لاشیںا ور زخمی اسپتال منتقل کیے جارہے ہیں

دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام میں روسی فوج کی وحشیانہ بم باری مزید 12شہری شہید اور 20زخمی ہوگئے۔ شامی ذرائع کے مطابق جنگی طیاروں نے رات گئے شمال مغربی صوبے ادلب کے شہر معرۃ النعمان میں مرکزی بازار کو نشانہ بنایا۔ اس حملے کے نتیجے میں 12شہری شہید اور 20 زخمی ہوئے، جب کہ بازار میں لگے اسٹال اور دکانیں تباہ ہوگئیں۔ شامی مبصر کے مطابق بدھ کے روز ایک ذریعے نے بتایا کہ کفربنودہ کے محاذ پر اسدی فوج اور مزاحمت کاروں کے درمیان جاری شدید لڑائی میں 24گھنٹوں کے دوران فریقین مزید 70افراد مارے گئے۔ دوسری جانب امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایسے آثار موجود ہیں کہ شام میں اسدی فوج ممکنہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں سے ایک نئے مبینہ حملے کی مرتکب ہوئی ہے۔ امریکی محکمہخارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ اسدی فوج کی طرف سے یہ مبینہ حملہ کلورین گیس کی مدد سے ملک کے شمال مغرب میں 19 مئی کی صبح کیا گیا۔ بیان کے مطابق اسدی فوج نے یہ کیمیائی ہتھیار اپوزیشن کے زیر قبضہ ادلب کے علاقے میں اپنی مسلح کارروائیوں کے دوران استعمال کیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان کے مطابق اگر یہ حملہ ثابت ہو گیا، تو اس کا فوری اور مناسب جواب دیا جائے گا۔ بیان میں 19 مئی کو کیے جانے والے مبینہ حملے کو اسدی فوج کی جانب سے اس جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے، جس کے ذریعے شام کے صوبے ادلب میں لاکھوں شہریوں کو لڑائی سے تحفظ فراہم کیا گیا تھا۔ بیان میں اسد حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ شمال مغربی شام کی آبادیوں کے خلاف اپنے حملے فوری روکے۔ بیان کے مطابق صدر ٹرمپ نے ستمبر 2018ء میں ہی کہہ دیا تھا کہ ادلب کے کشیدگی سے محفوظ علاقوں پر کوئی حملہ احمقانہ اقدام ہوگا، جس سے پورے خطے کا استحکام خطرے میں پڑسکتا ہے۔ واضح رہے کہ ادلب شام میں مزاحمت کارو کا آخری مضبوط گڑھ بچا ہے اور اسد حکومت اس علاقے پر بھی اپنی عمل داری بحال کرنے کی شدت سے خواہش مند ہے۔صدر ٹرمپ کے دورِ اقتدار میں امریکا اسد حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال پر شام کی سرکاری تنصیبات پر دو بار اپریل 2017ء اور اپریل 2018ء میں بمباری کرچکا ہے۔امریکی حکام مسلسل خبردار کرتے آئے ہیں کہ اگر اسد حکومت نے شہری آبادی کے خلاف دوبارہ کیمیائی ہتھیاراستعمال کیے تو اسے پھر امریکی جوابی کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔