سلمان شہباز نے ملازمین کے اکائونٹس سے منی لانڈرنگ کی،نیب ،حمزہ شہباز کی ضمانت میں توسیع

103
لاہور: پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز لاہور ہائیکورٹ میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں
لاہور: پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز لاہور ہائیکورٹ میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت)لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز کے خلاف تین کرپشن کیسز میں ان کی عبوری صمانت میں توسیع کر دی۔جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مقدمے کی سماعت کی۔قومی احتساب بیورو (نیب) کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ بیورو حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے تمام انتظامات کرچکا تھا۔حمزہ شہباز کے قونصل نے دلائل دیے کہ نیب نے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) کی رپورٹ فراہم نہیں کی اور عدالت پر زور دیا کہ بیورو دستاویزات حوالے کی جائیں۔جس پر نیب پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ ایف ایم یو رپورٹ خفیہ دستاویزات ہیں اور انہیں حمزہ شہباز کے حوالے نہیں کیے جاسکتا۔خیال رہے کہ حمزہ شہباز پر آمدن سے زائد اثاثے رکھنے، رمضان شوگر ملز اور پنجاب صاف پانی کمپنی میں مبینہ کرپشن کرنے کا الزام ہے۔بینچ نے نیب پراسیکیوٹر کو ہدایت کی کہ وہ حمزہ شہباز کے خلاف دائر مقدمات کے پس منظر کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کرے جس پر پراسیکیوٹر نے بینچ کو بتایا کہ حمزہ شہباز، ان کے بھائی سلمان اور والد شہباز شریف نے غیر واضح ذرائع سے آمدن سے زائد اثاثے جمع کیے۔نیب نے بتایا کہ سلمان کے فرنٹ مین نے سلمان کے ہی ملازمین کے بینک اکاؤنٹ کے ذریعے منی لانڈرنگ کی۔نیب کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو مزید بتایا کہ محمد مشتاق عرف چینی، جو رمضان شوگرملز کا منیجر تھا اور انہیں گزشتہ ماہ پی آئی اے فلائٹ سے اتار کر گرفتار کیا گیا، نے انکشاف کیا کہ سلمان اپنے ملازمین کے نام پر بینک اکاؤنٹ کھولتا تھا۔نیب نے کہا کہ حمزہ شہباز منی لانڈرنگ میں حصہ دار تھے۔اس دوران حمزہ شہباز کے وکیل نے ایف ایم یو رپورٹ پیش کرنے پر زور دیا اور کہا کہ ’رپورٹ ہی مقدمے کی بنیاد‘ ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب کے پاس منی لانڈرنگ مقدمات کی تفتیش کرنے کا اختیار نہیں ہے جس پر نیب کے پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ نیب اسی طرح کے مقدمات کی تحقیقات کررہا تھا۔حمزہ شہباز کے وکیل نے کہا کہ رکن قومی اسمبلی مجسٹریٹ کی اجازت کے بغیر گرفتار نہیں کیے جا سکتے۔بعد ازاں عدالت نے حمزہ شہباز کی ضمانت میں 28 مئی تک توسیع کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔دوسری جانب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہا کہ چیئرمین نیب کا انٹرویو حقیقت ہے تو بڑا شرمناک ہے۔ چیئرمین نیب نے پریس کانفرنس کرنی ہے تونیب سیاسی جماعت بنالے، نیب اپنی سیاسی جماعت کا نام نیب رکھے اور عمران نیازی سے الحاق کر لے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی روپیہ انتہائی نچلی سطح تک گر گیا، قوم سے جھوٹ بولا جا رہا ہے،یہاں کچھ ٹھیک نہیں ہو رہا، ملک معاشی طور پر کمزور ہوتے ہیں تو قومیں ڈوب جاتی ہیں، مجھے دور دور تک امید کی کرن نظر نہیں آتی۔