ملک بھر سے 70 ہزار گداگر کراچی پہنچ گئے

65

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی میں عید سے قبل مزید پیشہ ور گداگروں کی آمد شروع ہوگئی، پیشہ ور گداگروں کے نیٹ ورک نے مزید ’’بھرتیاں‘‘ شروع کردیں، پولیس کی جانب سے گدا گری کے خلاف کارروائیاں نمائشی بن گئیں۔ رمضان المبارک سے قبل پہلے ہی70 ہزار سے زائد پیشہ ور گداگر ملک کے دیگر شہروں سے ’’سیزن‘‘ لگانے کے لیے کراچی پہنچ گئے ہیں۔ ان پیشہ ور گداگروں میں نومولود شیر خوار بچے، بزرگ، نوجوان لڑکے و لڑکیاں اور خواجہ سرا شامل ہیں۔ پیشہ ور گداگر ٹھیک ٹھاک اداکار ہوتے ہیں جو لوگوں کی نفسیات سے کھیلنا بخوبی جانتے ہیں۔ شہر کے تمام سگنلز، مساجد، مزارات، شاپنگ سینٹرز اور اہم مقامات گداگر مافیا میں تقسیم ہو چکے ہیں۔ ہر علاقے کا ایک ٹھیکیدار ہوتا ہے جو پیشہ ور گداگروں کو کھانا، رہائش اور پک اینڈ ڈراپ کے علاوہ یومیہ اجرت دیتا ہے۔ کوئی گداگر اپنے علاقے کے علاوہ کسی دوسرے علاقے میں بھیک نہیں مانگ سکتا۔ پولیس کہتی ہے کہ پیشہ ور گداگر جرائم کی وارداتیں کرتے ہیں۔ پولیس کے مطابق گداگری کے لیے شہر کے وی آئی پی علاقوں میں ڈیفنس، کلفٹن، طارق روڈ، بہادر آباد، ٹاور، بولٹن مارکیٹ، صدر، گلشن اقبال، گلستان جوہر، نارتھ ناظم آباد، حیدری، ناظم آباد اورنارتھ کراچی شامل ہیں۔ ان وی آئی پی علاقوں میں معذوروں اور شعبدے بازوں کو بٹھایا جاتا ہے۔ گداگر مافیا فقیروں کو ان کی ’’اہلیت‘‘ دیکھ کر ان کی مزدوری طے کرتی ہے جو لوگ پیدائشی طور پر معذور ہوتے ہیں انہیں سب سے زیادہ معاوضہ دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد خواتین اور پھر بچوں کی باری آتی ہے۔ رمضان میں ایک گداگر روزانہ2 سے ڈھائی ہزار باسانی کما لیتا ہے۔