ریلوے کی زمین سے بیدخلی ،آبادکاری کا منصوبہ بھی لایا جائے،سول سوسائٹی

82

کرا چی( اسٹاف رپورٹر )سول سوسائٹی، انسانی حقوق و مزدور حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے رہنمائوں اور سرکلر ریلوے کے متاثرین کے نمائندوں نے عدالت عظمیٰ کے معزز ججوں اورسندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بیدخلی آپریشن سے پہلے آ بادکاری کا منصوبہ سامنے لایا جائے۔کراچی پریس کلب میں بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انیس ہارون، رکن برائے نیشنل کمیشن فار ہیومین رائٹس، کرامت علی ایگزیکیوٹو ڈائریکٹر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبرایجوکیشن اینڈ ریسرچ (پائلر)، متاثرین کے نمائندے حاجی خان بادشاہ، اربن ریسورس سینٹر کے محمد یونس، نغمہ شیخ اور ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان کے اسداقبال بٹ نے کہا کہ ڈیڑھ مہینے میں سرکلر ریلوے کی بحالی ناممکن ہے اس لیے اس کو فی الحال ملتوی کیا جائے۔متاثرین کو جہاں سے بیدخل کیا جائے وہاں سے قریب ترین سرکاری اراضی پر ان کو تمام سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں کہاجارہا ہے کہ متاثرین کی آبادکاری ایک سال بعد ہوگی اس طرح سے آبادکاری ممکن نہیں ہوگی اس لیے عدالت سے استدعا کی جائے کہ تجاوزات ہٹانے کا عمل ملتوی کیا جائے ورنہ انارکی پھیلنے کا ڈر ہے۔9 مئی کو عدالت عظمی’ کے دورکنی بنچ نے کراچی میں سر کلر ریلوے کے حوالے سے اہم ترین فیصلہ کیا جس میں ریلوے حکام کو 15 روز کے اندر ریل ٹریک کے اطراف سے تمام تعمیرات کو ہٹا کر زمین سندھ حکومت کے حوالے کرنے اور پھر سندھ حکومت کو ایک ماہ کی مدت میں سرکلر ریلوے اور لوکل ٹرین کو فعال بنانے کا حکم دیا۔انہوں نے کہا کہ ریلوے سیکرٹری نے اعلیٰ عدالت میں یہ حقیقت تسلیم کی ہے کہ سرکلر ریلوے کے ٹریک کے ساتھ ساتھ ہزاروں خاندان آباد ہیں جن کی تعداد 2013 ء کے سروے کے مطابق 4653 ہے۔ یہ تمام متاثرین بے گھرہوجائیں گے۔