نیب کا مقصد صرف پکڑ دھکڑ نہیں کیس ثابت کرنا بھی ہے،چیف جسٹس

170

چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ نیب کا مقصد صرف پکڑ دھکڑ نہیں بلکہ کیس کو ثابت کرنا اور ملزم کو سزا دلوانا بھی ہے۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں کرپشن کیس کے ملزم عطااللہ کی بریت کے خلاف نیب اپیل پر سماعت ہوئی،سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ قومی احتساب بیورو (نیب)پر برہم نظر آئے اور ریمارکس دیے کہ نیب کو سوچنا چاہیے کہ صرف کیس بنانا مقصد نہیں ہے اور نیب کا مقصد صرف پکڑ دھکڑ نہیں ہے،نیب کو چاہیے جس پر کیس بنائے شواہد بھی ساتھ لگائے، نیب کے اسی رویے کی وجہ سے لوگ ذہنی دبا کا شکار ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ 19 سال سے ملزم کو رگڑا لگایا جا رہا ہے، ملزم پر جس عہدے کی بنیاد پر کرپشن کا الزام ہے اس عہدے کا ثبوت تک نہیں،نیب آخر کرتا کیا ہے؟کیا نیب کا مقصد صرف کیس بنانا ہے؟چیف جسٹس پاکستان کا اپنے ریمارکس میں مزید کہنا تھا کہ نیب کا مقصد کیس ثابت کرنا اور ملزم کو سزا دلوانا بھی ہے، نیب کے اسی رویے کی وجہ سے لوگ ذہنی دبا کا شکار ہیں۔

بعد ازاں عدالتِ عظمی نے کیس کا فیصلہ کرتے ہوئے ملزم عطااللہ کی بریت کے خلاف نیب اپیل مسترد کردی۔

واضح رہے کہ ملزم عطا اللہ پر نیشنل بینک میں بطور کیشیئر کرپشن کا الزام تھا اور اسے ہائیکورٹ 4 سال قبل بری کرچکی ہے۔