مہنگائی کیخلاف عوام پورے ملک کو ڈی چوک بنادیں گے،خورشید شاہ

94
کراچی: پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما خورشید شاہ سندھ اسمبلی آمد پر میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں
کراچی: پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما خورشید شاہ سندھ اسمبلی آمد پر میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ مہنگائی کے خلاف لوگ پورے ملک کو ڈی چوک بنا دیں گے،ہم حکومت گرانے کی نہیں حکمرانوں کو سیدھے راستے پر لانے کی کوشش کرتے ہیں ،ملک میں لوگ رمضان کی وجہ سے خاموش ہیں وگرنہ حکومت نے عوام کی جوحالت کردی ہے لوگ رمضان میں بھی نکلنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کی ایک افطار پارٹی سے حکومت پریشان ہوگئی ہے اورحکمران روزہ افطارکرنا بھی بھول گئے یہ یہ ابو بچاؤ نہیں ملک بچاؤ مہم ہے۔وہ سندھ اسمبلی کے دورے کے موقع پرصحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔ سید خورشید احمد شاہ نے کہاکہ حکومت کی نااہلی اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک کا نقصان ہوا ہے ،حکومت نے خود اعتراف کرلیا ہے کہ وزیر خزانہ ، ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک کی وجہ سے وہ ناکام ہوئی ہے، ڈالر کی قیمت بڑھ گئی ہے، مہنگائی کا طوفان آگیا ہے، پہلے بجٹ بنانے میں ہمیں آئی ایم ایف تجاویز دیتی تھی اب آئی ایم ایف ہی پورا بجٹ بنارہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کو بتایا جائے کہ آئی ایم ایف کے پاس کیا گروی رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ جمہوریت میں اپوزیشن کی بیٹھک ہوتی رہتی ہے لیکن اپوزیشن کی ایک افطار پارٹی سے حکومت پریشان ہوگئی ہے ،اتنا پریشان حکومت کو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا اتنی پریشانی 31سال کی سیاست میں نہیں دیکھی ،اپوزیشن کی افطار پارٹی کے چکر میں حکمران اپنا روزہ کھولنا بھول گئے ،کچھ لوگوں کو ہم پر بات کرنے کے لیے لگا دیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن نے افطار میں آئندہ کا لائحہ عمل بنایا ہے اگر ہم بیٹھ کر ملک اور مسائل پر بات نہیں کرینگے تو لوگ ہمارا احتساب کریں گے۔سید خورشید احمد شاہ کا کہنا تھا کہ ڈالر تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے ،مہنگائی رْک نہیں رہی ہے ،پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیے بغیر آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا گیا اگر یہ سب ہو اور اپوزیشن کہے سب اچھا ہے ؟ توعوام کوکیا جواب دیں گے، ہم حکومت کا حصہ تھوڑی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ علیم خان نہ کسی کورٹ میں گیا نہ میڈیکل کی ضرورت پڑی ،اگر تحریک انصاف کو انصاف نہیں ملے گا تو کس کو انصاف ملے گا ،نیب نے کہا کہ100دن آپ ہماری وجہ سے اندر گزارو پھر ہم آپ کو باہر نکال دیں گے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ جتنے الزامات عبدالعلیم خان پر ہیں اس سے آدھے بھی شرجیل میمن پر نہیں ہوں گے، علیم خان کی ضمانت پر رہائی سے عمران خان اور نیب کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہو گیا، اگر یہ گٹھ جوڑ نہیں تو شرجیل میمن کو 2 سال سے ضمانت کیوں نہیں ملی، دکھاوے کے لیے عبدالعلیم خان کی قربانی دی گئی۔آئی ایم ایف معاہدے کے بعد لوگ مہنگائی سے تباہ ہیں اور مررہے ہیں ،اب لوگوں میں برداشت کی سکت نہیں رہی ہم بھی اقتدارمیں تھے مگر ہم میں لاکھوں لوگوں کو بیروزگار کرنے کی سکت نہیں تھی ہم بھی ووٹ لے کر آئے ہیں ہم نے بھی ملک سے وفا کی قسم کھائی ہے۔ انہوں کہا کہ نواز شریف تو کم سے کم مودی کے ظاہری یار نہیں رہے مگرخان صاحب تو مودی سے امید لگائے بیٹھے ہیں وہ کشمیر کا مسئلہ حل کرے گا ان کے پیچھے تو کوئی اور بیٹھا ہے۔ انہوں نے چیئرمین نیب کو مشورہ دیا کہ انہیں پریس کانفرنس کرکے سیاست کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔