نیب نے بیوروکریسی کو مفلوج کردیا،غیر جانبدار ادارہ نہیں،شاہد خاقان

81

اسلام آباد (صباح نیوز) پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے قومی احتساب بیورو (نیب)چیئرمین کے حالیہ انٹریو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ نیب کا ایک ہی مقصد ہے کہ سیاستدان کو بدنام کیا جائے اور ان پر بے بنیاد الزام لگائے جائیں‘صحافی جاوید چودھری نے گزشتہ دنوں “چیئرمین نیب سے ملاقات” کے عنوان سے ایک کالم تحریر کیا تھا جس میں شہباز شریف کی جانب سے نیب کو ڈیل کی پیشکش کا ذکر کیا گیا تھا۔ چیئرمین نیب ملک کے ٹھیکیدار نہ بنیں‘ انہیں سیاستدانوں کی بے عزتی کا کوئی حق نہیں۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یا جاوید چودھری جھوٹ بول رہے ہیں یا چیئرمین نیب جھوٹ بول رہے ہیں لیکن چیئرمین نیب کے انٹرویو کا کیا مقصد ہے یہ وقت کے ساتھ عیاں ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ جھوٹ جو بھی بول رہا ہے‘ بدنام سیاستدان ہو رہا ہے کیونکہ پگڑی اس کی اچھالی جارہی ہے ‘ یہی چیزیں ملک کی تباہی کا باعث بنتی ہیں۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نیب نے ملک میں بیورو کریسی کو مفلوج کردیا ہے‘ علیم خان کی ضمانت ہو جاتی ہے لیکن فواد حسن فواد اور احد چیمہ کی ضمانت نہیں ہوتی ، ان کی حالت کو دیکھ کر آج کون سا بیورو کریٹ کام کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ نیب غیرجانبدار نہیں ہے، جو مسائل نیب نے پیدا کیے ہیں ان کے جواب کون دے گا‘ چیئرمین نیب نے اپنی پریس کانفرنس میں جاوید چودھری کے کالم پر ایک لفظ بھی نہیں کہا‘ کیا وہ یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ یہ باتیں غلط ہیں اور انہوں نے نہیں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس سیاستدان پرالزام لگائیں وہ سوالنامہ انٹرنیٹ پر ڈال دیں تاکہ عوام کو پتا چلے کیا سوالات ہوئے ہیں‘ شہباز شریف کی چیئرمین نیب سے کوئی میٹنگ نہیں ہوئی ‘ چیئرمین نیب سے یہ بھی منسوب کیا گیا کہ نوازشریف بھی رقم دینے کو تیار ہیں۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج صرف (ن) لیگ کا احتساب ہو رہا ہے جس کو جان بچانی ہے وہ حکومتی بینچز پر چلاجائے‘ایک شخص کو پکڑنے کے لیے ایک ادارہ اور سیکڑوں لوگ لگے ہوئے ہیں‘ معیشت تباہ ہو چکی اور اس میں نیب کا بہت بڑا حصہ ہے‘ اخباروں میں سیاستدانوں کی پگڑیاں اچھالی جا رہی ہیں‘ سیاستدانوں کو بدنام کرنا روایت بن گئی ہے‘3500 کیسز چل رہے ہیں‘ کسی کا فیصلہ نہیں ہو رہا۔ شاہد خاقان عباسی نے چیئرمین نیب کے حوالے سے کہا کہ حکومت پر بھی بہت کیسز ہیں اگر ان کے خلاف کارروائی کی تو حکومت گر جائے گی‘ چیئرمین نیب جس عہدے پر ہیں کیا اس کا یہ تقاضا نہیں ہے کہ میڈیا پر آ کر ایف اے ٹی ایف سے متعلق بات نہ کریں۔