بھارتی حزب اختلاف نے ایگزٹ پول کے نتائج مسترد کردیئے

108
نئی دہلی: حزبِ اختلاف کی جماعتیں متوقع انتخابی نتائج سے متعلق مشاورت کررہی ہیں
نئی دہلی: حزبِ اختلاف کی جماعتیں متوقع انتخابی نتائج سے متعلق مشاورت کررہی ہیں

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں کانگریس سمیت حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے ایگزٹ پول کے ان نتائج کو مسترد کر دیا ہے، جن میں مودی حکومت کی واپسی کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مودی حکومت واپس آنے والی نہیں۔ غیر جانبدار صحافیوں اور تجزیہ کاروں نے بھی ایگزٹ پول پر سوالات اٹھائے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والے محاذ این ڈی اے کو جتنی نشستیں ملتی دکھائی جا رہی ہیں، اتنی نشستوں کی تو خود این ڈی اے کو بھی توقع نہیں۔کانگریس کے ترجمان راجیو گوڈا نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ 23 مئی کا انتظار کیجیے، ہم آپ کو حیرت میں ڈال دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام میں خوف و ہراس کا ماحول ہے اور وہ درست رائے ظاہر نہیں کر پا رہے ہیں۔ انہوں نے بھی خوف و ہراس کی بات کی اور کہا کہ بہت سے لوگ اس ڈر سے رائے لینے والوں کو صحیح بات نہیں بتاتے کہ کہیں وہ حکومت کے آدمی نہ ہوں۔ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی صدر اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ایگزٹ پول کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین بدلنے والا کھیل اور گپ شپ قرار دیا۔ عام آدمی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ اگر مشینوں میں پڑنے والے ووٹ اور پرچیوں میں فرق کا ایک بھی واقعہ پیش آتا ہے، تو لوک سبھا انتخابات منسوخ کر دیے جائیں۔ لیکن بی جے پی کے رہنماؤں نے ایگزٹ پول کی حمایت کی اور کہا کہ عوام نے مودی حکومت کے کام کی تائید کرتے ہوئے ایک بار پھر اسے منتخب کیا ہے۔ایک سینئر تجزیہ کار اور کالم نگار انیس درانی کا کہنا ہے کہ ماضی میں ایگزٹ پول کے نتائج غلط ثابت ہوئے ہیں اور اس بار بھی ہوں گے۔ان کا کہنا ہے کہ 2004ء، 2009ء اور 2014ء میں ایگزٹ پول کے نتائج غلط ثابت ہوئے تھے۔