حکمران مدارس کیخلاف منفی پروپیگنڈوں سے باز آجائیں،امیرالعظیم

49

لاہور (نمائندہ جسارت) سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان اور امیر جماعت اسلامی صوبہ وسطی پنجاب امیر العظیم نے کہا ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے مگر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے حکومت اشتعال انگیز تقاریر اور مذہبی منافرت کے آڑ میں مخالفین کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا چاہتی ہے۔ حکمران سیاست نہ چمکائیں اور دینی جماعتوں و مدارس کے خلاف منفی پروپیگنڈوں سے باز آجائیں۔ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مختلف تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور یورپی ممالک کا ایجنڈا ہے کہ پاکستان کا اسلامی تشخص ختم کیا جائے اور وہ اپنی اس سازش کے تحت پاکستان میں دینی مدارس کو ختم کرنا چاہتے ہیں تاکہ دینی جماعتوں کے اثر و رسوخ کو بڑھنے سے روکا جائے۔انہوں نے کہاکہ وفاقی وزرا دینی مدارس کے خلاف تشویشناک بیانات دیتے رہتے ہیں۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت مغربی ایجنڈے پر کام کررہی ہے۔پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور اس میں غیر اللہ کا قانون نافذ العمل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ المیہ یہ ہے کہ 70برسوں سے انگریزوں کے فرسودہ نظام نے ملک و قوم ناقابل نقصان پہنچایا ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب پاکستان میں اللہ اور اس کے رسول ؐ کے پیروکار برسر اقتدار آکر عوام کی بے لوث خدمت کا فریضہ سر انجام دیںگے۔امیر العظیم نے مزید کہا کہ حکومت وقت کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ ملک میں سیاسی استحکام کو مستحکم کرے اور اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلے۔ اپوزیشن کے ساتھ سیاسی انتقام کے تاثر کو ختم کیا جانا چاہیے۔ پاکستان تاریخ کے نازک دور سے گزررہا ہے ۔ معاشی مسائل نے حکمرانوں کے ہوش اڑادیے ہیں ایسے میں اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینا ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران داخلہ و خارجہ پالیسیوں کو از سر نو مرتب کریں اور بیرونی دبائو کو ملحوظ خاطر نہ رکھا جائے۔