گلشن اقبال،افسران کے ملی بھگت سے کے ڈی اے گرائونڈ نجی کمپنی کے حوالے

85
گلشن اقبال: کے ڈی اے گرائونڈ میں انتظامیہ کی ملی بھگت سے بچت بازار لگانے کی تیاری کی جارہی ہے
گلشن اقبال: کے ڈی اے گرائونڈ میں انتظامیہ کی ملی بھگت سے بچت بازار لگانے کی تیاری کی جارہی ہے

کراچی (اسٹاف رپورٹر) شہر بھر میں سرکلر ریلوے ٹریک کے اطراف ہر قسم کی تجارت اور رہا ئشی تعمیرات اور تجاوزات کو مسمار کرنے کے لیے آپریشن کیا جارہا ہے تو دوسری جانب شہری اداروں کی ملی بھگت سے گزشتہ دنوں یونیورسٹی روڈ پر واقع کے ڈی اے گرا ئونڈ کو ایک نجی کمپنی کو عید بچت بازار لگانے کے لیے دے دیا گیا ہے جس کے بعد اومانیہ انٹر پرا ئیزز اور نشاء ایڈورٹائز نگ کمپنی کی جا نب سے گلشن اقبال کے ڈی اے گراؤنڈ میں بچت بازار کے نام سے بکنگ کا آغا ز کر دیا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر پر ایک ٹیبل 3سو سے7سو روپے جبکہ دوکان کی بکنگ2ہزار سے 4ہزار روپے میں کی جارہی ہے جبکہ بازار انتظامیہ نے شہری اداروں اور بلدیاتی اداروں کی ملی بھگت سے گرائونڈ کے ساتھ ساتھ نہ صرف سروس روڈ پر اسٹالز کی بکنگ کیمپ لگا رکھا ہے بلکہ یونیورسٹی روڈ کی گرین بیلٹ پر عدالت عظمیٰ کے احکامات کے برخلاف اشتہاری بورڈ آویزاں کردیے ہیں جس کے باعث سروس روڈ پر گاڑیوں اور پیدل سفر کرنے والے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ،اور رات کے ا وقات میں بد ترین ٹر یفک جام ہو جا تا ہے، شہر میں کی جانے والی اس کھلی قانون شکنی عدالت عظمیٰ کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی نے حکومت سندھ، میئر کراچی،چیرمین بلدیہ ضلع شرقی، کمشنر کراچی،ڈی جی کے ڈی اے، ڈپٹی کمشنر ضلع شرقی کے کردار پر کئی سوالیہ نشان لگا دیے ہیں کیونکہ مختلف ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مذکورہ بازار کی اجازت کے عوض مبینہ طور پرلاکھوں روپے کی ڈیل کی گئی ہے، بازار کی اجازت کے حوالے سے میئر کراچی نے بتایا کہ انہیں علم نہیں کس نے بازار کی اجازت دی ہے انہوں نے کہا کہ اگر کے ایم سی کے کسی افسر نے اجازت دی ہے تو اْسے ہٹا دیا جائے گا میئر کراچی نے کہا وہ معلوم کر کے بتائیں گے تاہم کوشش کے بعد بھی دوبارہ اْن سے رابطہ نہیں ہوسکا جبکہ بلدیہ ضلع شرقی کے چیئرمین معید انور نے بتایا کہ انہوں نے بھی بازار کی اجازت نہیں دی ہے زمین ریلوے کی ہے ریلوے انتظامیہ سے بات کریں، ڈی جی کے ڈی اے اور ڈپٹی کمشنر ضلع شرقی سے انکا موقف جاننے کے لیے متعدد مرتبہ کوشش کی گئی تاہم اْن سے بھی رابطہ نہیں ہوسکا جبکہ بازار انتظامیہ سے اسٹال کے حوالے سے آویزاں کیے گئے نمبر 03180260219پر رابطہ کرنے پر ظفر نامی شخص نے بتایا گیا کہ گلشن اقبال کے ڈی اے گراؤنڈ میں بچت بازار لگانے کے لیے وزیر بلد یا ت سندھ،بلد یہ عظمیٰ کراچی اور ڈی ایم سی شرقی سے اجازت نامہ حا صل کیا گیاہے۔ بازار مسمار کرنے کا اعلان کرنے والے کمشنر کراچی خود بازار کا افتتاح کریں گے جبکہ چیئرمین بلدیہ ضلع شرقی معید انور دو روز قبل بازار کا دورہ کرکے گئے ہیں مذکورہ شخص سے جب پوچھا کہ عدالت عظمیٰ نے ریلوے ٹریک کے اطراف اور کھیل کے میدانوں سڑکوں فٹ پاتھوں پر کسی بھی قسم کی تجارتی سرگرمیوں پر پابند عائد کر رکھی ہے تو آپ کو سندھ حکومت نے کیسے اجازت دے دی ؟مذکورہ شخص نے جواب دیا کہ ہم حکومت سندھ کی لاڈے ہیں اس لیے اجازت دی ہے۔بچت بازار کے لیے اسٹالز اور دکانوں کی فروخت جاری ہے۔ علاقہ مکینوں کی جانب سے کھیل کے میدان میں بازار قائم کرنے پر شدید احتجاج کیا جارہا ہے ۔ علاقہ مکینوں نے عدالت عظمیٰ سے مذکورہ بازار فوری طور پر بند کرانے اور بازار کی اجازت دینے والے سرکاری افسران اور ان کی پشت پناہی کرنے والے سیاسی لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے۔