پاکستان نے 1992 میں عمران خان کی قیادت میں5واں عالمی کپ جیتا تھا

56

5واں عالمی کپ 1992میں22 فروری سے 25 مارچ آسڑیلیا اور نیوزی لینڈ میں مشترکہ طور پرکھیلا گیا جس میں9 ٹیموں نے شرکت کی تھی۔ ٹیسٹ کا درجہ رکھنے والی8 ٹیموں کے علاوہ زمبابوے کو اس عالمی کپ میں کھیلنے کا موقع ملا تھا۔ نورنامنٹ سنگل گروپ کے تحت کھیلا گیا تھا۔ اس ٹورنامنٹ سے جنوبی افریقا کی بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی ہوئی تھی۔ پہلی 4 ٹیموں نے سیمی فائنل میں کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ پہلے نمبر والی ٹیم کا چوتھے نمبر ٹیم کے ساتھ اور دوسرے اور تیسرے نمبرز پر جو ٹیمیں آئیں ان کے درمیان سیمی فائنل میچ ہویے۔ پہلے سیمی فائنل میں جوآ کلینڈ کے ایڈن پارک میں 21 مارچ کو کھیلا گیا، پاکستان نے نیوزیٰ لینڈ کو 4 وکٹ سے ہراکر پہلی مرتبہ فائنل میں کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا۔ پہلے بلے بازی کرتے ہوئے نیوزیٰ لینڈ نے مقررہ50 اوور میں7 وکٹ پر262 رنز بنائے۔پاکستان نے 49اوور میں6 وکٹ پر264 رنز بناکرمیچ جیتا تھا۔ دوسرا سیمی فائنل جوسڈنی کرکٹ میدان پر 22مارچ کو کھیلا گیا، انگلینڈ نے جنوبی افریقا کے خلاف 19 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔ انگلینڈ نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے45 اوور میں6وکٹ پر 252رنز بنائے تھے۔ جنوبی افریقا نے 43 اوور میں6 وکٹ پر 232 رنز بنائے تھے۔ آخری لمحات میں جنوبی افریقا کو ایک گیند پر19 رنز بنانے کا ٹارگیٹ ملا تھا۔ اس عالمی کپ میں بارش والے میچوں کے لیے جو قاعدہ اپنایا گیا تھا اس کی کافی مذمت ہوئی تھی۔ملبورن کرکٹ گرائونڈ پر 25مارچ کو کھیلے گئے فائنل میں پاکستان نے انگلینڈ کو شکست دیکر پہلی مرتبہ عالمی چمپیئن ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرتے ہوئے پاکستان نے 50 اوور میں 6 وکٹ پر 249 رنز بنائے تھے ْ۔ عمران خان نے 110 گیندوں پر5 چوکوں اورایک چھکے کی مدد سے 72 رنز بنائے تھے ۔ ڈیرک پرنگل نے22 رنز دیکر3 کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا تھا۔ انگلینڈ کے تمام کھلاڑی 49.2 اوور میں227 رنز بناکر آئوٹ ہوئے جسکی وجہ سے وہ 22 رنز سے میچ ہارگئی ۔نیل فیر برادر نے 70 گیندوں پر3 چوکوں کی مدد سے62رن زبنائے۔ وسیم اکرم اور مشتاق احمد نے3,3وکٹ لیے۔ وسیم اکرم کو مین آف دی میچ ایوارڈ ملا۔ پاکستان کے کپتان عمران خان نے عا لمی کپ اور 33333 پائونڈزکا چیک بھی حاصل کیا۔ اس فائنل کو 87,182 تماشائیوں نے دیکھا ۔اس عالمی کپ میں39 میچوں میں3416.2 ااوور میں514 وکٹوں کے نقصان پر15107 رنز بنے۔ ہر میچ میں اوسطا387.35 رنز۔ چھ بلے بازوں نے8 سنچریاںجبکہ 8 بولروں نے ایک اننگ میں چار وکٹ حاصل کئے۔