بلاول کا سائبر کرائم ایکٹ کے غلط استعمال کا نوٹس نظر ثانی کا علان

84

اسلام آباد ( خبر ایجنسیاں) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے چیئرمین بلاول زرداری نے سائبرکرائم ایکٹ کے غلط استعمال کا نوٹس لیتے ہوئے قانون پر نظرثانی کا اعلان کردیا‘ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے قانون میں ردوبدل کے لیے بلاول زرداری نے سفارشات مانگ لیں‘ بلاول زرداری نے حکومتی اتحادی جماعتوں بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) اور متحدہ قومی موومنٹ کو لاپتا افراد کے بارے میں قانون بننے تک عوام دشمن بجٹ کی حمایت میں ووٹ نہ دینے کا مشورہ دے دیا ہے۔ قائمہ کمیٹی اجلاس کے دوران بہادر بچے کا تذکرہ بھی ہوگیا جس پر بلاول نے کہا ہے کہ رائو انوار جیسے لوگوں کے پیچھے اصل لوگ کوئی اور ہیں‘ ماورائے عدالت قتل کے واقعات صرف ایک صوبے یا کراچی نہیں بلکہ ملک بھرمیں پھیل گئے ہیں‘ ایسے واقعات ان کی عادت بن گئے ہیں‘ پاکستان میں انسانی حقوق کا بحران پیدا ہوگیا ہے اور اس ڈیزاسٹر کی سزا سب بھگت سکتے ہیں‘ اس لیے اب بھی وقت ہے کہ ضروری قانون سازی کرلی جائے‘ انسانی حقوق پر آئندہ اجلاس کوئٹہ میںہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی حقوق سے متعلق قوانین کی تیاری میں بیوروکریسی کی وجہ سے رکاوٹیں ہیں‘عرصہ دراز تک وزارت قانون میں بل پھنس کر رہ جاتے ہیں جبکہ انسانی حقوق سے متعلق بعض اہم سرکاری بلز کو غیر متعلقہ کمیٹیوں کو بھیج دیا جاتا ہے۔ قائمہ کمیٹی نے اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ انسانی حقوق سے متعلق تمام بلز اس کمیٹی میں آنے چاہئیں‘ ارکان نے اسکولوں میں بچوں کی جسمانی سزا کی ممانعت کا بل قائمہ کمیٹی ایجوکیشن کے سپرد ہونے پر حیرانگی ظاہر کی ہے۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پھانسی کی سزا ملنے والے قیدیوں کی رحم کی اپیل کی درخواست کے طریقہ کارکو آسان بنایا جارہا ہے۔ چیئرمین قومی کمیشن برائے حیثیت خواتین نے کہا کہ خواتین کے خلاف جرائم کے معاملے پر پولیس کی طرف سے بھی مشکلات کا سامنا ہے‘ پولیس کا رویہ بھی ایک مسئلہ ہے‘ اسلام آباد میں خواتین کے خلاف 10 سال میں47 مقدمات عدالتوں میں زیرسماعت ہیں۔ قائمہ کمیٹی نے زیر التوا بلز پر رپورٹس کی تیاری کے لیے سب کمیٹی بنا دی ہے‘ سائبر ایکٹ کے حوالے سے انسانی حقوق قومی کمیشن کے نمائندے نے بتایا کہ قانون پر صحیح طریقے سے عملدرآمد نہیںہو رہا‘ کوئی بھی الزام لگنے پر 3 روز کی ابتدائی تفتیش ضروری ہے۔ اجلاس کے دوران بلوچستان نیشنل پارٹی ( مینگل)کے رکن آغا حسن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کے قوانین سمیت آئین لاگو نہیں ہے‘ جب میں ایم این اے بنا تو بلوچستان کے ایک شخص نے کوئٹہ سے رابطہ کیا کہ 8 سال ہوگئے میرے بھائی کو اٹھایا گیا ہے اور ابھی2 روز قبل اس شخص نے بتایا کہ میرے بھائی کو مستونگ میں جعلی مقابلے میں شہیدکردیا گیا ہے۔ بلاول زرداری نے قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کا آئندہ اجلاس کوئٹہ میں منعقدکرنے کا اعلان کیا ہے ۔ بعدازاں میڈیا سے بات چیت میں بھی بلاول زرداری نے کہا کہ آزادی اظہار رائے بہت ضروری ہے اس کے بغیر تبدیلی مشکل ہے‘خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے ‘متعلقہ اداروں کو اگلے اجلاس میں بلایا ہے‘سائبر کرائم سے متعلق اداروں کو جواب دینا ہوگا۔