کراچی کے اداروں سے وابستہ افسران کی ازسر نو تصدیق کا فیصلہ

113

کراچی (رپورٹ: محمد انور) حکومت سندھ نے بلدیہ عظمیٰ کراچی سمیت کراچی کے تمام ضلعی بلدیاتی اور ترقیاتی اداروں کے تمام افسران کے سروس ریکارڈ کی چھان بین اور ازسر نو تصدیق کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم ان اداروں میں ڈسٹرکٹ کونسل کراچی شامل نہیں ہے جس سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ حکومت صرف مخصوص افسران کے خلاف آئندہ کسی بڑی کارروائی کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس سرکلر کے بعد کراچی کا شہری ڈومیسائل رکھنے والے ہزاروں افراد میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس ضمن میں سندھ حکومت کے محکمہ بلدیات کے سیکشن افسر کی جانب سے جاری سرکلر نمبر 1223 مورخہ 19 اپریل میں کہا گیا ہے کہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن، کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی، ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی، لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور 6 ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشنز، ایسٹ، ویسٹ، سینٹرل، جنوبی ، ملیر اور کورنگی، سندھ بلڈنگز کنٹرول اتھارٹی ( ایس بی سی اے ) کے گریڈ 16 سے 21 تک افسران کا ریکارڈ مرتب کرکے حکومت کو بھیجا جائے تاکہ حکومت ان کی دوبارہ تصدیق کرسکے یا کراسکے۔ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ حکومت کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ افسران جعلی اپائنٹمنٹ آرڈرز، جعلی پروموشن ، پوسٹنگ اور تعلیمی دستاویزات کے ذریعے اہم اسامیوں پر متعین ہوچکے ہیں اس لیے تمام افسران کا تمام ریکارڈ مرتب ازسر نو مرتب کیا جائے تاکہ اس کی دوبارہ تصدیق کی جاسکے۔ اس سرکلر میں تمام افسران سے دیگر ریکارڈ کے ساتھ فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹس بھی طلب کیے گئے ہیں جبکہ بینک اکاؤنٹس اور آخری پے سلپ بھی مانگی گئی ہے۔ سرکلر کی پیر کو وصولی کے بعد تمام متعلقہ محکموں کے ہزاروں افسران میں تشویش پھیل گئی ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ حکومت سرکاری افسران کا ریکارڈ چیک کرکے انہیں خوفزدہ کرنا چاہتی ہے یا پھر ان کے خلاف کسی سخت کارروائی کا ارادہ رکھتی ہے۔ خیال رہے کہ مذکورہ اداروں میں گریڈ 16 اور اس سے اوپر کے گریڈز کے کل افسران کی تعداد کم و بیش 10 ہزار ہوگی۔ حیرت اس امر پر ہے کہ حکومت نے صوبے کے دیگر اداروں کے افسران کے بارے میں معلومات کے لیے اس طرح کا کوئی قدم نہیں اٹھایا۔