ایم ایل ون کے حوالے سے چین سے معاہدہ نہیں ہوا، کمیٹی میں انکشاف

72

اسلام آباد (صباح نیوز) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایم ایل ون ریلوے ٹریک کے حوالے سے چین کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے صرف ڈیزائن فائنل ہوا ہے، ڈیزائن پر 10 ارب روپے خرچ ہوئے ہیں اور یہ دستاویزات پاکستان ریلوے کی ملکیت ہیں، کمیٹی نے محکمہ ریلوے کی طرف سے غلط اعداد و شمار کمیٹی کو دینے پر شدید برہمی کا اظہارکرتے ہوئے متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی کی ہدایت کردی، سابقہ اجلاس میں کچھ اور اعداد وشمار دیے گئے اس اجلاس میں کچھ اور دیے گئے، انکوائری کرکے کمیٹی کو بتایا جائے کہ نئی ٹرینیں منافع میں ہیں یا خسارے میں؟ اور وقت کی پابندی کے حوالے سے اعداد و شمار درست ہیں یا غلط؟ سعد رفیق نے کہا کہ میں اپنے 5 سالہ دور میں بھی غلط اعداد و شمار نہ دینے کا کہتا رہا مگر یہ کسی کی نہیں سنتے، کارکردگی دکھانے کے لیے ایسا کیا جا رہا ہے، وزیر ریلوے کا اس میں کوئی قصور نہیں ہے، نئی ٹرینوں کے حوالے سے ایک صفحے پر کہا گیا کہ منافع میں ہیں اور دوسرے میں خسارے کا کہا گیا، 72 فیصد ٹرینیں وقت پر آنے کا بتایا جا رہا ہے جبکہ اصل میں ٹرینوں کی پابندی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ چیئرمین کمیٹی محمدمعین وٹو نے کھلے پھاٹکوں کے مسائل حل کرنے کے حوالے سے وزارت سے مکمل بریفنگ طلب کرلی۔ انہوں نے کہا کہ 10 ہزار نوکریوں کی ریلوے تنخواہ ہی نہیں دے سکتا، صرف ضروری لوگ بھرتی کیے جائیں ورنہ تباہی آجائے گی۔ بھرتی کاعمل شروع نہیں ہوا پہلے ہی رشوت لے کر بھرتی کرنے کی باتیں شروع ہوگئی ہیں، اس معاملے کوسنجید ہ لیاجائے۔ سیکرٹری ریلوے نے کہا کہ غلط فیگر کی انکوائری کی جائے گی، اگر کسی نے اعداد و شمار میں ٹیمپرنگ کی ہے تو اس کو کیا سزادی گئی ہے؟۔ مالی سال 2018-19ء میں اب تک 72 فیصد ٹرینیں وقت کی پابندی کر رہی ہیں۔