عدالت عظمیٰ کے احکامات نظر انداز شہر بھر میں غیرقانونی تعمیرات جاری

58

کراچی (اسٹا ف رپورٹر)شہر قائد میں بلڈرز مافیا کی سیاسی سرپرستی اور من مانیوں سے غیر قانونی تعمیرات کے تمام سابق ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ عدالت عظمیٰکے احکامات کے باوجود شہر بھر میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے۔ غیر قانونی تعمیرات کے باعث شہر کا انفرااسٹرکچر تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا۔ ایک طرف عدالت عظمیٰ کے حکم پر غیر قانونی تجاوزات اور کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کے لیے ادارے دن رات کام کر رہے ہیں دوسری جانب ایس بی سی اے افسران اور عملے نے نہ صرف شہر میں بڑے پیمانے پر ہونے والی غیر قانونی تعمیرات پرآنکھیں بند کر رکھی ہیں بلکہ خود ادارے کے بعض افسران اور ملازمین بھی غیر قانونی تعمیرات کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ شہر کے متعدد علاقوں میں رہائشی بنگلوں پر پورشن، یونٹ اور فلیٹ بننے کے باعث پہلے سے موجود پانی و سیوریج کی لائنیں ناکافی ہوگئی ہیں۔ پی ای سی ایچ ایس، طارق روڈ کے اطراف کے علاقے، بہادر آباد، گلستان جوہر، گلشن اقبال، ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، لیاقت آباد، فیڈرل بی ایریا، بفرزون، نارتھ کراچی اور دیگر علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات عروج پر ہیں ان علاقوں میں سیوریج لائنیں بوجھ برداشت نہ کرنے کے باعث جگہ جگہ ابل رہی ہیں اور پینے کے پانی کی بھی شدید قلت ہوتی جارہی ہے۔ سڑکیں تباہ ہو گئی ہیں شہریوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ آٹھ دس ماہ میں غیر قانونی تعمیرات کے سابق تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے، منتخب بلدیاتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ بڑے پلاٹوں سے شروع ہونے والا غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ اب چھوٹے پلاٹوں اور کچی آبادیوں تک بھی پہنچ گیا ہے۔ وزیر بلدیات بھی اس کا نوٹس نہیں لے رہے، عدالت عظمیٰ مسلسل ایس بی سی اے کو کارروائی کی ہدایت کر رہی ہے لیکن موجودہ ڈائریکٹر جنرل اس سلسلے میں اب تک کوئی بڑی کارروائی یا واضح لائحہ عمل بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی جی آئندہ ماہ ریٹائرڈ ہو رہے ہیں‘ اس وجہ سے بھی ادارے میں افسران اور عملہ بہت زیادہ فعال نظر نہیں آرہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری غیر قانونی تعمیرات کے معاملے کو نہ روکا گیا تو شہر تیزی سے بنیادی سہولتوں سے محروم اور تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا۔