وفاقی وزیر داخلہ 10 سالہ معصوم بچی سے مبینہ طور پر زیادتی اور قتل کا نوٹس لے لیا

163

وفاقی وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ نے  دس سالہ معصوم بچی سے مبینہ طور پر زیادتی اور اسے قتل کرنے کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کے خلاف فوری کارروائی کے احکامات جاری کردیئے۔

تفصیلات کے مطابق 15مئی کو تھانہ شہزاد ٹائون کے علاقے علی پور  میں اپنے گھر سے دکان کے لئے جانے والی دس سالہ فرشتہ نامی  معصوم بچی کی لاش گزشتہ روز ملی تھی جسے پولیس نے پولی کلینک منتقل کردیا تھا۔  آئی جی اسلام آباد نے واقعے کی تحقیقات اور ملزمان کی گرفتاری کے لئے دو الگ الگ ٹیمیں تشکیل دیدی ہیں ایک ٹیم ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں بنائی گئی ہے جبکہ دوسری ٹیم ایس پی رورل کی سربراہی میں کام کررہی ہے۔ دونوں ٹیمیں بچی کے قاتلوں تک پہنچنے اور ان کی گرفتاری کے لئے کام کررہی ہیں۔

ایس ایس پی نے واقعہ کی ایف آئی آر بروقت درج نہ کرنے پر تھانہ شہزاد ٹائون کے ایس ایچ او سب انسپکٹر محمد عباس رانا کو فوری طور پر معطل کردیا  اور انہیں سیف سٹی فیلڈ آفس رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

دوسری طرف بچی کے ورثاء اور اہل علاقہ نے ترامڑی چوک میں  شدید احتجاج کرتے ہوئے سڑک بلاک کردی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور مظاہرین سے مذاکرات کئے تاہم مظاہرین نے سڑک کھولنے سے انکار کردیا۔  دریں اثناء وزیر داخلہ  اعجاز احمد شاہ نے بچی کو قتل کرنے کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کے خلاف فوری کارروائی کے احکامات جاری کردیئے ہیں اور آئی جی اسلام آباد سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔