نیب نے نواز شریف سے 34 بلٹ پروف گاڑیوں کی تفتیش  کیلئے احتساب عدالت سے اجازت لے لی

194

قومی احتساب بیورو(نیب) نے سابق وزیراعظم نواز شریف سے سارک کانفرنس کیلئے  بیرون ملک سے منگوائی گئیں 34 بلٹ پروف گاڑیوںکو  ذاتی استعمال میں لانے کی تفتیش  کیلئے احتساب عدالت سے اجازت حاصل کرلی۔

احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک سے نیب نے سابق وزیراعظم نواز شریف سے بلٹ پروف گاڑیوں کے غیر قانونی استعمال پر تفتیش کی اجازت مانگی جس پر فاضل جج نے نیب  راولپنڈی کو کوٹ لکھپت جیل میں قید نواز شریف سے تفتیش کی اجازت دے دی۔

نیب نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف اور مریم نواز نے بلٹ پروف گاڑیوں کوغیرقانونی طور پراستعمال کیا ،جرمنی سے 34 بلٹ پروف گاڑیاں ڈیوٹی ادائیگی کے بغیر خریدی گئیں،بلٹ پروف گاڑیاں سارک کانفرنس 2016کے مہمانوں کیلئے تھیں،34بلٹ پروف گاڑیوں میں سے 20گاڑیاں نواز شریف نے اپنے قافلے میں شامل کرلیں، نیب نے بلٹ پروف گاڑیوں کی انکوائری میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا بیان بھی قلمبند کرلیا ہے۔

نیب نے بلٹ پروف گاڑیوں کے کیس میں فواد حسن فواد اور سابق سیکرٹری خارجہ سے بھی پوچھ گچھ کی اور بتایا کہ وزارت خارجہ کے افسران نے بلٹ پروف گاڑیوں کے معاملے میں اختیارات سے تجاوز کیاہے،بلٹ پروف گاڑیاں نواز شریف کے اہلخانہ نے استعمال کی ہیں۔