شہری اداروں کی ملی بھگت سے گلشن اقبال کے ڈی اے گراؤنڈکو نجی اشتہا راتی کمپنی کو بچت بازار کے لئے دے دیا گیا ہے،

225

کراچی (رپورٹ:منیر عقیل انصاری) شہر بھر میں سرکلر ریلوے ٹریک کے اطراف ہر قسم کی تجارت اور رہا ئشی تعمیرات اور تجاوزات کو مسمار کرنے کے لئے آپریشن کیا جارہا تو دوسری جانب شہری اداروں کی ملی بھگت سے گزشتہ دنوں یونیورسٹی روڈ پر واقع کے ڈی اے گرا ؤنڈ کو ایک نجی کمپنی کو عید بچت بازار لگانے کے لیے دے دیا گیا ہے،

جس کے بعد اومانیہ انٹر پرا ئیزز اور نشاء ایڈواٹز نگ کمپنی کی جا نب سے گلشن اقبال کے ڈی اے گراؤنڈ میں بچت بازار کے نام سے بکنگ کا آغا ز کر دیا ہے اور روزآنہ کی بنیاد پر پر ایک ٹیبل 3سو سے7سو روپے جبکہ دوکان کی بکنگ2ہزار سے 4ہزار روپے میں فروخت کی جارہے ہیں،

جبکہ بازار انتظامیہ نے شہری اداروں اور بلدیاتی اداروں کی ملی بھگت سے گراونڈ کے ساتھ ساتھ نہ صرف سروس روڈ پر اسٹالز کا بکنگ کیمپ لگا رکھا ہے بلکہ یونیورسٹی روڈ کی گرین بیلٹ پر سپریم کورٹ کے احکامات کے برخلاف اشتہاری بورڈ آویزاں کردیئے ہیں،

جس کے باعث سروس روڈ پر گاڑیوں اور پیدل سفر کرنے والے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ ر ات کے ا وقات میں بد ترین ٹر یفک جام ہو جا تا ہے، شہر میں کی جانے والی اس کھلی قانون شکنی سپریم کورٹ کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی نے حکومت سندھ، میئر کراچی،چیرمین بلدیہ ضلع شرقی، کمشنر کراچی،ڈی جی کے ڈی اے، ڈپٹی کمشنر ضلع شرقی کے کردار پر کئی سوالیہ نشان لگا دیئے ہیں،

کیونکہ مختلف ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مذکورہ بازار کی اجازت کے عیوض مبینہ طور پرلاکھوں روپے کی ڈیل کی گئی ہے، بازار کی اجازت کے حوالے سے میئر کراچی نے بتایا کہ انھیں علم نہیں کس نے بازار کی اجازت دی ہے انھوں نے کہا کہ اگر کے ایم سی کے کسی افسر نے اجازت دی ہے تو اْسے ہٹا دیا جائے گا میئر کراچی نے کہا وہ معلوم کر کے بتائیں گئے،

تاہم کوشش کے بعد بھی دوبارہ اْن سے رابطہ نہیں ہوسکا جبکہ بلدیہ ضلع شرقی کے چیرمین معید انور نے بتایا کہ انھوں نے بھی بازار کی اجازت نہیں دی ہے زمین ریلوے کی ہے ریلوے انتظامیہ سے بات کریں، ڈی جی کے ڈی اے اور ڈپٹی کمشنر ضلع شرقی سے انکا موقف جاننے کے لئے متعدد مرتبہ کوشش کی گئی تاہم اْن سے بھی رابطہ نہیں ہوسکا،

جبکہ بازار انتظامیہ سے اسٹال کے حوالے سے آویزاں کیے گئے نمبر 03180260219پر رابطہ کرنے پر ظفر نامی شخص نے بتایا گیا کہ گلشن اقبال کے ڈی اے گراؤنڈ میں بچت بازار لگانے کے لئے وزیر بلد یا ت سندھ،بلد یہ عظمی کراچی اور ڈی ایم سی شرقی سے اجازت نامہ حا صل کیا گیاہے،

بازار مسمار کرنے کا اعلان کرنے والے کمشنر کراچی خود بازار کا افتتاح کریں گے جبکہ چیرمین بلدیہ ضلع شرقی معید انور دو روز قبل بازار کا دورہ کرکے گئے ہیں مذکورہ شخص سے جب پوچھا کہ سپریم کورٹ نے ریلوے ٹریک کے اطراف اور کھیل کے میدانوں سڑکوں فٹ پاتھوں پر کسی بھی قسم کی تجارتی سرگرمیوں پر پابند عائد کر رکھی ہے تو آپ کو سندھ حکومت نے کیسے اجازت دے دی مذکورہ شخص نے جواب دیا کہ ہم حکومت سندھ کی لاڈے ہیں اس لئے اجازت دی ہے،

یاد رہے چند روز قبل کمشنر کراچی افتخار سلو انی نے ایک پریس کانفر نس کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہو ئے کہا تھا کہ گلشن اقبال کے ڈی اے گراؤنڈ کراچی سرکلر ریلو ے کے اطراف میں ہے اس لئے اس گراؤنڈ میں کسی صورت بچت بازار لگا نے کی اجازات نہیں دی جائے گی اور لگنے والے بچت بازار کو بھی مسما ر کردیا جائے گا،اس کے باوجود کمپنی کی جانب سے بے خوف کے ڈی اے گراؤنڈ کے اطراف اور یو نیو رسٹی روڈ کے گرین بیلٹ کو برقی قمقموں سے سجا دیا گیا ہے،

بچت بازار کے لئے اسٹالز اور دکانوں کی فروخت جاری ہے۔ علاقہ مکینوں کی جانب سے کھیل کے میدان میں بازار قائم کرنے پر شدید احتجاج کیا جارہا ہے علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ گراؤنڈ میں بازار کی اجازت دے کر حکومت نے علاقہ مکینوں کو رمضان کے مقدس مہینے میں شدیدازیت دوچار کردیا ہے،

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ جب سپریم کورٹ نے ملک بھر میں کھیل کے میدانوں میں تجارتی کاموں پر پابندی عائد کردی ہے تو کیا کراچی میں سپریم کورٹ کے احکامات لاگو نہیں ہوتے شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف سپریم کورٹ کے حکم پر دوکانیں مکان توڑے جار ہے ہیں دوسری طرف میدانوں میں بازار لگانے کی اجازت دی جارہی ہے،

شہر کی سماجی حلقوں کی جانب سے بھی مذکورہ بازار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت سنگین صورتحال پر سیاستدانوں کو سیکوریٹی فراہم کر رہی ہے تو دوسری طرف غیر محفوظ بازار وں کی اجازت دے کر معصوم شہریوں کی جان مال کو خطرات میں ڈال رہی ہے،

علاقہ مکینوں نے سپریم کورٹ سے مذکورہ بازار فوری طور پر بند کرانے اور بازار کی اجازت دینے والے سرکاری افسران اور ان کی پشت پناہی کرنے والی سیاسی لوگوں کے خلاف قانونی کاررووائی کرنے کی اپیل کی ہے۔