تیسر ٹاؤن اسکیم 45 کی قرعہ اندازی جون کے آخر میں ہوگی،

140

کراچی (اسٹا ف رپورٹر)ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) کی جانب سے تیسر ٹاؤن اسکیم 45 کی کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی جون کے آخر میں کرائے جانے کا امکان ہے جس میں شریک ایک لاکھ 70 ہزار افراد میں سے 22 ہزار افراد کو پلاٹ مل جائیں گے۔

ایم ڈی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل محمد سہیل خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 15 اپریل فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ تھی اس دن تک ایم ڈی اے کو ایک لاکھ 70 ہزار فارم موصول ہوئے۔ اس کے بعد فارم وصولی کا سلسلہ بند کردیا گیا تھا۔

تقریبا 21 ہزار ایکڑ پر محیط اس ہاؤسنگ اسکیم میں 22 ہزار پلاٹوں کیلئے قرعہ اندازی ہوگی جس میں ایک لاکھ 70 ہزار افراد حصہ لے رہے ہیں۔ پلاٹوں کا سائز 80، 120، 240 اور 400 مربع گز ہے۔

ایم ڈٰی اے نے فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ کے ٹھیک 60 دن بعد قرعہ اندازی کرانے کا فیصلہ کیا ہے اور ان پلاٹوں پر ڈیولپمنٹ چارجز اگلے ہفتے ہونے والے اجلاس میں طے کیے جائیں گے۔

محمد سہیل خان کا کہنا ہے کہ ڈیولپمنٹ چارجز (ترقیاتی اخراجات) پلاٹ کی قیمت کے برابر ہوسکتے ہیں۔ اگر آپ کا 80 گز کا پلاٹ 80 ہزار روپے کا ہے تو اس کے ساتھ ڈیولپمنٹ چارجز بھی 80 ہزار روپے ہوں گے مگر اس بارے میں ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق 80 اور 120 گز کے پلاٹ پر گھر بنانے کا خرچہ تقریباً 3 لاکھ سے 5 لاکھ تک ہے۔

تیسر ٹاؤن اسکیم 45 گلشن معمار اور ڈریم ورلڈ ریزارٹ کے مابین واقع ہے جہاں پہلے ہی بہت ساری ہاؤسنگ سوسائٹیز بن چکی ہیں۔ اسکیم 45 کو 1996 اور پھر 2005 میں لانچ کیا گیا مگر منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تھا۔ تقریبا 15 سال بعد سندھ حکومت نے گزشتہ ماہ اس اسکیم کو تیسری مرتبہ لانچ کیا ہے۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل محمد سہیل خان کا کہنا ہے کہ کراچی میں بدامنی اور کشیدگی کے باعث گزشتہ 10 سے 15 سال اس طرح کے منصوبوں کیلئے سازگار نہیں تھے۔ اب یہ پروجیکٹ 2 سال کے اندر مکمل ہوجائے گا۔

تیسر ٹاؤن اسکیم 45 کا ماسٹر پلان 2003 میں ایک نجی انجنیئرنگ فرم سے بنوایا گیا ہے۔ اسکیم کا مقصد کم آمدنی والے شہریوں کو رہائش کی سہولت فراہم کرنا اور کراچی کے شمال مشرق میں ایک نیا کاروباری گڑھ تخلیق کرنا تھا۔ اس کو 1986 میں کے ڈی اے نے منظور کیا مگر بعد ازاں 1996 میں منصوبہ ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے سپرد کردیا گیاتھا۔