ٹنڈوالٰہیار،ایڈز کے کیس سامنے آنے پرضلع انتظامیہ چوکنا ہوگئی

49

ٹنڈوالٰہیار(نمائندہ جسارت)ضلع ٹنڈوالٰہیار میں ایڈز کے کیس میڈیا کی زینت کیا بنے ضلعی انتظامیہ پھرتیاں دکھانے لگی ،اتائی ڈاکٹر میڈیکل اسٹور پر محدود کارروائی کے بعد کارروائی سرد خانے کی نظر کردی گئی۔ تفصیلات کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے جن ایڈز کے کیسوں کو چھپانے کی کوشش کی میڈیا نے انہیں کھوج نکالا میڈیا پر ضلع کے مختلف علاقوں میں ایڈز وائرس کی تصدیق کی خبریں نشر ہونے کے بعد ڈپٹی کمشنر نے بھی چپ توڑ دی نو افراد کے ایڈز میں مبتلا ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے ہنگامی فوٹو سیشن اجلاس طلب کیا اور ایڈز کی روک تھا کے لیے پھرتیاں دکھانے کی کوشش کی اور بتایا کہ ایڈز کے مرض میں نو افراد مبتلا ہیں جن میں سے کچھ کا تعلق تعلقہ جھنڈومری۔کچھ کا تعلقہ چمبڑ۔اور کچھ کا سٹی ٹنڈوالٰہیار سے ہے۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق ان تمام مریضوں کے نام صیغہ راز رکھے گئے ہیں اور ان کا علاج بھی چل رہا ہے۔ڈپٹی کمشنر کے ہنگامی اجلاس کے بعد ڈپٹی کمشنر لائو لشکر کے ہمرہ اتائی کے خلاف ایک روزہ دورے پر نکلے اور میڈیکل اسٹوز کا جائزہ لیا ساتھ ہی اتائی ڈاکٹرزکی دو ایک کلینکوں کو بھی سیل کرکے فرض پورا کیا۔شہریوں کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی ایڈز جیسے خطرناک معاملے پر غیرسنجیدگی ان کے فرائض پر سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ سروے کے مطابق ضلع بھر میں پندرہ سو سے تجاوز گرگئی ہے جبکہ گلی گلی میں موجود غیررجسڑرڈ لیباٹریاں ایڈز وائرس کو پھیلانے کا آسان ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔جن پر ایک روزہ کارروائی اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر بھی نہیں۔جبکہ مذکورہ وائرس صرف اتائی ڈاکٹروں سے نہیں پھیلتا بلکہ یہ خطرناک وائرس پھیلانے کے ذمے دار اور بھی ہیں جن میں نائی باربر شاپ اور جگہ جگہ موجود فحاشی کے اڈے سرے فہرست ہیں جوکہ تینوں تعلقوں میں کثیر تعداد میں موجود ہیں جن پر پولیس کارروائی سے گریزاں ہے یہ اڈے دھڑلے سے ایڈز پھیلانے کا آسان مرکز بنے ہوئے ہیں۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ایڈز وائرس کی مزید تشخیص کے لیے اسکیننگ کیمپ لگایا جانا تھا جو تاحال نہ لگ سکا۔ ضلعی انتظامیہ ایڈز جیسے خطرناک مسئلے پر کتنی سنجیدہ ہے وہ عوام کے سامنے ہے ضلع کی عوام نے کمشنر حیدرآباد اور سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فلفور ضلعی انتظامیہ کو احکامات جاری کیے جائیں کہ وہ ضلع بھر میں ایڈز وائرس کی تشخیص کے لیے فوری کیمپ لگائیں ساتھ ہی ایڈز آگاہی مہم کے سلسلے میں ریلی اور سیمنارز کا انعقاد کریں ساتھ ہی اتائی ڈاکٹروں کے خلاف کارروائیوں کو مزید تیز کریں تاکہ مزید افراد اس موذی مرض میں مبتلا ہونے سے بچ سکیں اور ایڈز پھیلانے والے اور اس کی وجہ بننے والے سفاک لوگوں کو بے نقاب کریں۔