انتظامیہ ٹریفک جام کے مسئلہ کو حل کرنے کیلیے کوئی اقدامات نہیں کررہی

85

فیصل آباد(وقائع نگار خصوصی)جماعت اسلامی حلقہ پی پی115کے امیر میاںاجمل حسین بدر ایڈووکیٹ،جنرل سیکرٹری یوسف گل پراچہ اوردیگرنے کہا ہے کہ افطارکے وقت شہر کی اہم ترین شاہراہوں و تجارتی مراکز میں بدترین ٹریفک جام رہنا ضلعی، میونسپل کارپوریشن انتظامیہ او رپولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، انتظامیہ کے تمام تر دعووں اور اقدامات کے برعکس افطار کے وقت اور اسکولز و کالجز کی چھٹی کے دوران بدترین ٹریفک جام عوام کے لیے دہرے عذاب کا سبب بنا ہوا ہے مگر انتظامیہ ٹریفک جام کے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے عملی طور پر کسی بھی قسم کے اقدامات نہیں کررہی ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔انہوںنے کہاکہ متعلقہ محکموں کے افسران کی جانب سے دعوے تو بہت کیے جاتے ہیں مگر ان پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے ٹریفک جام کا مسئلہ آج تک حل نہیں ہوسکا ہے، اہم شاہراہوں و تجارتی مراکز میں تجاوزات کی بھرمار ہے، جس کی وجہ سے شاہراہیں سکڑ کر گلی و کوچوں میں تبدیل ہوگئی ہیں، تجاوزات ختم کرنے کے لیے متعدد بار شروع کردہ انسداد تجاوزات آپریشن آج تک منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکا یہی وجہ ہے کہ ٹریفک جام کا مسئلہ ناسور بنتا جارہا ہے، مگر افسران کو شہریوں کے مسائل کی کوئی پرواہ نہیں۔ ضلعی، میونسپل کارپوریشن انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کی ذمے داری ہے کہ وہ تجاوزات کا خاتمہ کرکے ٹریفک جام کے مسئلے کو حل کریں مگر کسی بھی محکمے کے افسران شہریوں کو مشکلات سے دوچار کرنیوالے ٹریفک جام کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کسی بھی قسم کے اقدامات نہیں کررہے ہیں، جس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ انہوں نے کمشنر، میئر، ایس ایس پی ٹریفک ودیگر اعلیٰ افسران مطالبہ کیا کہ شہر کے تمام علاقوں میں تجاوزات کے خاتمے اور اہم شاہراہوں پر فٹ پاتھ سے تجاوزات ختم کرنے کیلیے ٹھوس بنیادوں پر حکمت عملی مرتب کریں اور اس طرح کا آپریشن کیا جائے کہ جس کے بعد دوبارہ تجاوزات قائم نہ ہوسکیں جبکہ ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کے لیے ٹریفک وراڈنز اہلکاروں کی تعداد بھی بڑھائی جائے اور انہیں اپنے فرائض کی ادائیگی کا پابند بنایا جائے تاکہ ٹریفک جام کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جاسکے۔