ڈیفنس سے اغواء لڑکی 2 کروڑ روپے تاوان ادائیگی کے بعد گھر پہنچ گئی

87

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ڈیفنس کی رہائشی لڑکی بسمہ کی تاوان کے بعد رہائی کراچی پولیس کے لیے خفت کا باعث بن گئی۔ اغوا میں خاندان کے اندرونی عناصر کے ملوث ہونے کا امکان ظاہر کردیا، کراچی کے علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی سے اغوا ہونے والی 20 سالہ بسمہ تاوان کی رقم ادا ہونے پر باحفاظت گھر واپس آگئی۔ مغوی لڑکی ایک بڑی تعمیراتی کمپنی کے مالک کی بیٹی بتائی جاتی ہے ،جس کے اغوا کے بعد اہل خانہ کی جانب سے اغوا کامقدمہ درج نہیں کرایا گیا۔ اغوا کے پانچ روز بعد مغوی لڑکی گھر واپس پہنچ گئی، باخبر ذرائع کے مطابق اغوا کاروں کو 2کروڑ روپے ادائیگی کے بعد بسمہ گھر واپس پہنچی ،مغوی لڑکی تاوان کی ادائیگی کے رہائی کراچی پولیس کے خفت کاباعث بنی ، جس کے کراچی پولیس نے معاملے کونیارخ دینے کے لیے اغو اء کو اپنی نوعیت کا پہلا کیس قرار دیا جس میں اغوا کاروں نے سوشل میڈیا کے ذریعے لڑکی کے اہلخانہ سے رابطہ کیا جس پر پولیس نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس میں اندرونی عناصر کے ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کیا۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس جنوبی پیر محمد شاہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے لڑکی کی باحفاظت بازیابی کے لیے کوششیں کر رہے تھے۔ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں اہلخانہ کا کوئی قریبی شخص ملوث ہوسکتا ہے، ملزمان کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ کیس پولیس کے لیے چیلنج ثابت ہوا اور اس سے مستقبل میں پولیس کا ایسے کیسز سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوا ،ان کا کہنا تھا کہ لڑکی کے والد نے پولیس کو تفصیلات نہیں بتائیں تاہم اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ اہل خانہ نے لڑکی کی رہائی کے لیے تاوان کی رقم ادا کی ہے۔ادھر پولیس جنوبی زون کے ڈی آئی جی شرجیل کریم کھرل کے مطابق پولیس نے متعدد اقدامات کیے ہیں تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جاسکے، جس میں ڈی ایچ اے اور کلفٹن کے تمام ریسٹورنٹ پر پولیس اہلکاروں کی تعیناتی شامل ہے۔ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہر کے مختلف حصوں میں چھاپا مار کارروائی کرتے ہوئے چند افراد کو حراست میں لیا ہے اور ان سے اس کیس کے بارے میں پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ خیال رہے کہ درخشاں تھانے کے حکام کے مطابق 20 سالہ لڑکی اتوار کے روز اپنے کزن اور دیگر افراد کے ہمراہ دوپہر ایک بجے ڈیفنس میں سڑک کے کنارے قائم ایک ریسٹورنٹ میں چائے پینے گئی تھی۔جس کے بعد وہ خود اس مقام سے کار چلا کر اپنے گھر کی طرف آئی جبکہ ڈرائیور برابر والی سیٹ پر بیٹھا تھا۔ جیسے ہی وہ گھر کے قریب پہنچی اور ڈرائیور کار کا دروازہ کھولنے کے لیے گاڑی سے اترا، اسی اثنا میں ایک کار میں سوار 4 مسلح ملزمان نمودار ہوئے اور ڈرائیور کو چیخ کر دروازہ نہ کھولنے کا کہا تاہم ڈرائیور گاڑی کا دروازہ کھول کر گھر میں داخل ہو ا،اور اہلِ خانہ کو واقعہ سے آگاہ کیا، جب تک اہلِ خانہ گھر کے دروازے پر پہنچے‘ مسلح افراد لڑکی کو لے کر جاچکے تھے جس کا اب تک کچھ پتا نہیں چل سکا۔پولیس کے مطابق اغوا کی یہ واردات اتوار کے روز رات کو تقریباً ایک بج کر 45 منٹ پر کی گئی۔