تیسرا بھارت اور چوتھا ورلڈ کپ آسٹریلیا کے نام رہا

57

سید پرویز قیصر
تیسراعالمی کپ:
پہلے 2 عالمی کپ کی طرح انگلینڈ میںتیسراعالمی کپ 1983 میں9 سے 25 جون تک کھیلا گیا جس میں8ٹیموں نے شرکت کی۔ ٹیسٹ کا درجہ رکھنے والی7 ٹیموں کے علاوہ زمبابوے کو اس عالمی کپ میں کھیلنے کا موقع ملا تھا۔ان 8 ٹیموں کو 2 گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔گروپ اے میں میزبان نگلینڈ کے علاوہ پاکستان ، نیوزی لینڈ اور سری لنکا کو رکھا گیا تھا جبکہ گروپ بی میں ویسٹ انڈیز، آسڑیلیا، بھارت اور زمبابوے کو جگہ ملی تھی۔گروپ اے سے میزبان نگلینڈ اورپاکستان نے اور گروپ بی سے ویسٹ انڈیزاوربھارت نے سیمی فائنل میں کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا۔اس مرتبہ لیگ میں ہر ٹیم نے دوسری ٹیم کے خلاف 2 میچ کھیلے یعنی3 کے بجائے6 میچ۔
پہلے سیمی فائنل میں جو لندن کے اوول پر22جون کو کھیلا گیا، ویسٹ انڈیزنے پاکستان کو 8وکٹ سے ہراکر لگاتار دوسری مرتبہ فائنل تک رسائی حاصل کی۔ پہلے بلے بازی کرتے ہوئے پاکستا ن نے مقررہ60 اوور میں8 وکٹ پر184 رنز بنائے۔ویسٹ انڈیز نے48.4 اوور میں2 وکٹ پر 188 رنز بناکر میچ جیتا تھا ۔اسی دن دوسرا سیمی فائنل جواولڈ ٹریفلڈ ، مانچسٹرمیں کھیلا گیا، بھارت نے انگلینڈ کے خلاف 6 وکٹ سے کامیابی اپنے نام کی۔ انگلینڈ نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے60 اوور میں213 رنز بنائے تھے۔بھارت نے54.4 اوور میں4وکٹ پر217 رنز بناکر میچ جیتا تھا۔
لارڈز کے تاریخی میدان پر 25 جون کو کھیلے گئے فائنل میں بھارت نے ویسٹ انڈیز کو شکست دیکر اسے لگا تار تیسری مرتبہ عالمی چمپیئن ہونے سے روک دیا تھا۔ٹاس ہارنے کے بعد پہلے بلے بازی کرتے ہوئے بھارت کے تمام کھلاڑی 54.4 اوور میں183 رنز بناکر آئوٹ ہوئے تھے سری کانت نے 57 گیندوں پر7 چوکوں اورایک چھکے کی مدد سے 38 رنزبنائے تھے ۔اینڈی رابرٹس نے ۱10 اوور میں 32 رنز دیکر 3 کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا تھا۔ اویسٹ انڈیز کے تمام کھلاڑی 52 اوور میں140 رنز بناکر آئوٹ ہوئے جسکی وجہ سے ویسٹ انڈیز نے43 رنز سے میچ ہارگئی تھی اورلگا تار تیسری مرتبہ ٹائٹل پر قبضہ نہیں کرسکی۔ووین رچرڈزنے 43 گیندوں پر7 چوکوں کی مدد سے33 رنز بنائے۔ مدن لال نے31رنز دیکر3 کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا جبکہ مہندر امرناتھ 12رنز دیکر3 ہی وکٹ لینے میں کامیاب رہے۔ انہیںمین آف دی میچ ایوارڈ ملا۔بھارت کے کپتان کپل دیو کو ڈیوک آف ایڈنبرا سے پروڈینشیل عالمی کپ اور 20,000 پوند کا چیک بھی حاصل کیا۔ اس فائنل کو 24,609 تماشائیوں نے دیکھا ۔اس عالمی کپ میں27 میچوں میں2952 اوور میں408 وکٹوں کے نقصان پر12046 رنز بنے، فی میچ میں اوسطا446رنز۔
چوتھا عالمی کپ:
چوتھا عالمی کپ 1987 میں8 اکتوبرسے 8 نومبر تک بھارت اور پاکستان میں مشترکہ طور پرکھیلا گیا تھا جس میں8ٹیموں نے شرکت کی تھی۔ ٹیسٹکا درجہ رکھنے والی7 ٹیموں کے علاو ہ زمبابوے کو عالمی کپ میں کھیلنے کا موقع ملا تھا۔ان 8 ٹیموں کو2 گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔گروپ اے میں میزبان بھارت کے علاوہ آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ اور زمبابوے کو رکھا گیا تھا جبکہ گروپ بی میں ویسٹ انڈیز، پاکستان، انگلینڈ اور سری لنکا کو جگہ ملی تھی۔گروپ بی سے نگلینڈ اورپاکستان نے اور گروپ اے سے آسڑیلیا اور بھارت نے سیمی فائنل میں کھیلنے کاحاصل کیا۔اس مرتبہ بھی لیگ میں ہر ٹیم نے دوسری ٹیم کے خلاف2 میچ کھیلے ۔ پچھلے3 عالمی کپ کی طرح اس عالمی کپ میں60 اوورزکے بجائے 50 اوورز کی اننگ ہوئیں۔اس کے بعد ہر عالمی کپ میں ایسا ہی ہوا۔
پہلے سیمی فائنل میں جولاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں4نومبر کو کھیلا گیا، آسڑیلیا نے پاکستان کو 18رنز سے ہراکر دوسری مرتبہ فائنل تک رسائی حاصل کی۔ پہلے بلے بازی کرتے ہوئے آسڑیلیانے مقررہ50 اوور میں8 وکٹ پر267 رنز بنائے۔پاکستان کے تمام کھلاڑی 49اوور میں 249 رنز بناکرآئوٹ ہوئے ۔ دوسرا سیمی فائنل جوممبئی کے وانکھیڈے اسٹیڈیم میں5 نومبر کو کھیلا گیا، بھارت کو انگلینڈ کے خلاف 35 رنز سے شکست ہوئی۔ انگلینڈ نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے50 اوور میں6وکٹ پر 254رنز بنائے تھے۔ بھارت کے تمام کھلاڑی 45.3 اوور میں219 رنز بناکرآئوٹ ہوئے تھے۔
کولکاتہ کے ایڈن گارڈن پر 8 نومبر کو کھیلے گئے فائنل میں آسڑیلیا نیانگلینڈ کو شکست دیکر مرتبہ عالمی چمپیئن ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرتے ہوئے آسڑیلیا نے 50 اوور میں 5وکٹ پر253 رنز بنائے تھے ْ۔ ڈیوڈ بون نے 125 گیندوں پر7 چوکوں کی مدد سے 75 رنz بنائے تھے ۔ انگلینڈنے 50 اوور میں8وکٹ پر246 رنزبناکر آئوٹ ہوئے جسکی وجہ سے وہ7 رنز سے میچ ہارگئی ۔بل ایٹھی نے 103 گیندوں پر2چوکوں کی مدد سے58رنز بنائے۔ ڈیوڈ بون کو مین آف دی میچ ایوارڈ ملا۔ آسٹریلیا کے کپتان ایلن بورڈر کو ریلاینس عالمی کپ اور 30,000 پوند کا چیک بھی حاصل کیا۔ اس فائنل کو 70000 سے زیادہ تماشائیوں نے دیکھا ۔
اس عالمی کپ میں27 میچوں میں2568.5 اوور میں385 وکٹوں کے نقصان پر12522 رنز بنے۔ ہر میچ میں اوسطا463.77 رنز۔بھارت کے چیتن شرما نے عالمی کپ میں پہلی ہیٹ ٹرک کرنے والے بولر بھی بنے۔