کراچی‘ شادی ہال توڑنے کے عدالتی حکم سے پلانیٹیریم کی بندش کا خدشہ

94

کراچی (اسٹاف رپورٹر) عدالت عظمیٰ میں پی آئی اے کی جانب سے درست صورتحال نہ بتانے کی بنا پر پلانیٹیریم کی بندش کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ بچوں میں تعلیمی شعور پیدا کرنے کی غرض سے جنرل ضیا الحق نے ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے چاروں صوبائی دارالحکومتوں اور وفاقی دارالحکومت میں پلانیٹیریم لگانے کی ہدایت کی تھی۔ یہ ٹاسک پی آئی اے کو سونپا گیا تھا جبکہ اس کے لیے زمین متعلقہ صوبوں کو فراہم کرنا تھی۔ اس میں سے کراچی، لاہور اور پشاور میں پلانیٹیریم قائم کردیے گئے تھے۔ اس کے اخراجات کے لیے صدارتی حکم نامے میں ہی اجازت دی گئی تھی کہ پلانیٹیریم کے لیے قائم کردہ باڈی اپنے ذرائع سے آمدنی حاصل کرسکتی ہے۔ صدارتی حکم کی اس روشنی میں پلانیٹیریم کی باڈی نے کراچی میں واقع پلانیٹیریم کے ساتھ ایک بینکویٹ بنایا تھا جس سے حاصل ہونے والی آمدنی سے پلانیٹیریم کے ملازمین کی تنخواہیں، بجلی و پانی کے بل اور دیگر اخراجات پورے کیے جا رہے تھے۔ عدالت عظمیٰ نے اس شادی ہال کو فوری گرانے کے احکامات جاری کیے ہیں ۔ پی آئی اے کے قانونی مشیر عدالت عظمیٰ کو یہ بتانے میں ناکام رہے کہ پلانیٹیریم صدارتی حکم نامے کے ذریعے قائم کیا گیا ہے اور اس کی آمدنی کی اجازت صدارتی حکم نامے میں ہی موجود ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح رینجرز کو اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے اندرون سندھ جھیلوں کا ٹھیکا دیا گیا تھا۔ پی آئی اے پلانیٹیریم کے ساتھ واقع شادی ہال ٹوٹنے سے پلانیٹیریم کے اخراجات کا بوجھ شدید مالی خسارے کا شکار پی آئی اے پر آ پڑے گا اور انہیں یہ بند کرنا پڑے گا۔ اس طرح سے بچے فلکیات کے بارے میں اہم معلومات سے محروم ہوجائیں گے۔ واضح رہے کہ پلانیٹیریم اور شادی ہال پی آئی اے کی ملکیتی زمین پر قائم نہیں ہیں اور پلانیٹیریم کے ختم ہوتے ہی یہ زمین ٹڈاپ کے پاس واپس چلی جائے گی۔