خلیجی حدود میں امریکی فوجی تعیناتی کی منظوری

104

ریاض ؍ تہران ؍ بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک نے امریکا کی درخواست منظور کرلی ہے، جس میں واشنگٹن نے ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی فوج خلیجی ممالک اور ان کی سمندری حدود میں تعینات کرنے کی اجازت مانگی تھی۔ عرب روزنامے ’الشرق الاوسط‘ نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ خلیج تعاون کونسل نے امریکی فوج کی خلیجی پانیوں میں تعیناتی کی باقاعدہ اجازت دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق خلیجی ملکوں کی طرف سے یہ اجازت امریکا کے ساتھ دو طرفہ معاہدوں کی بنیاد پر دی گئی ہے جس کا مقصد خطے کو ایران کی طرف سے درپیش خطرات اور عرب ممالک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی ایرانی سازشوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات یقینی بنانا ہے۔ اخبار کے ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ امریکی فوج کی خطے میں موجودگی ایران پر چڑھائی یا جنگ نہیں بلکہ دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ایران کی طرف سے خطرے کی صورت میں امریکا اور اس کے خلیجی اتحاد مل کر لائحہ عمل اختیار کریں گے۔ دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں برطانیہ نے اپنے شہریوں کو ایران کے سفر میں محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔ برطانوی وزیرخارجہ جیرمی ہنٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران اور برطانیہ کی دوہری شہریت رکھنے والے افراد کو ایران کے سفر میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ اُدھر چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ چین، ایران پر عائد یکطرفہ امریکی پابندیوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے بیجنگ میں اپنے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف سے ملاقات کے موقع پر ایران کو اپنی حمایت کا یقین دلایا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں وانگ یی نے واضح کیا ہے کہ چین ایرانی حقوق اور مفادات کے تحفظ کی حمایت کرتا ہے۔ اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کا کہنا تھا کہ ایران کا جوہری سمجھوتے سے علاحدگی کا کوئی ارادہ نہیں اور وہ جنگ کے خلاف ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق دورہ چین کے دوران چینی وزیر خارجہ نے ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ امریکا اور ایران کے مابین جنگ نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں کوئی بھی ملک ایران کے ساتھ محاذ آرائی نہیں چاہتا بلکہ امریکی صدر کے ارد گرد بعض حلقے ایران مخالف جنگ کے خواہش مند ہیں۔ دریں اثنا امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے پینٹاگون کو بتایا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ کے حامی نہیں ہیں جس کے بعد اعلیٰ امریکی سفارت کار ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے راستے ڈھونڈ رہے ہیں۔ اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ نے قائم مقام وزیر دفاع پیٹرک شناہن سے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے۔