یورپی یونین کا امریکا سے برتائو چین سے بھی بدتر ہے،ٹرمپ

96

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) یورپی یونین کے ساتھ جاری تجارتی تنازع میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر یورپی یونین ہی پر الزام تراشی کی ہے اور ساتھ ہی جرمن کار ساز صنعت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ٹرمپ نے یورپی گاڑیوں پر اضافی محصولات عائد کرنے کے اپنے فیصلے کو 6 ماہ تک کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔ ٹرمپ کے اس فیصلے کو یورپی کار ساز صنعت کے لیے ایک مہلت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ذرئع ابلاغ کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کا امریکا کے ساتھ برتاؤ چین سے بھی بدتر ہے۔ انہیں ہماری زرعی مصنوعات نہیں چاہییں، انہیں ہماری کاریں نہیں چاہییں اور وہ خود مرسیڈیز اس طرح امریکا بھیجتے ہیں، جیسے کوئی بسکٹ ہو۔ یورپی یونین تجارت کے شعبے میں امریکا سے فائدہ اٹھا رہی ہے، جبکہ ہم سب یورپ سے پیار کرتے ہیں لیکن یہ نا انصافی ہے۔ امریکا کی ایران پر عائد پابندیوں کا فی الحال مقصد یہ ہے کہ تہران حکومت سونا اور دوسری قیمتی دھاتیں انٹرنیشنل مارکیٹ سے خرید نہ سکے۔ اسی طرح ایران کو محدود کر دیا گیا ہے کہ وہ عالمی منڈی سے امریکی ڈالر کی خرید سے بھی دور رہے۔ علاوہ ازیں امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ کینیڈا اور میکسیکو سے فولاد اور المونیم کی درآمدات پر محصولات ختم کرنے کے ایک سمجھوتے پر پہنچ گئی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی فولاد سازوں کے تحفظ کے لیے گزشتہ سال کئی ممالک سے ایسی دھاتوں کی درآمدات پر بھاری محصولات عائد کر دیے تھے تاہم امریکا کے تجارتی نمائندہ دفتر نے جمعے کے روز اعلان کیا کہ کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ محصولات ختم کرنے کے لیے ایک سمجھوتا طے پا گیا ہے۔ دونوں ممالک بھی امریکا پر لگائے گئے جوابی محصولات ختم کر دیں گے۔ جاپان، چین اور دیگر ممالک سے فولاد اور المونیم کی درآمدات پر امریکا کے محصولات برقرار ہیں۔